حدیث نمبر: 13698
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَامَ ، فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ ؟ قَالَ : " إِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَنْكَ ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ وَقَعَ الشَّيْطَانُ ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ " . ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حَقٌّ : مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلِمَ بِمَظْلَمَةٍ فَيُفْضِي عَنْهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، إِلَّا أَعَزَّ اللَّهُ بِهَا نَصْرَهُ ، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ عَطِيَّةٍ يُرِيدُ بِهَا صِلَةً إِلَّا زَادَهُ بِهَا كَثْرَةً ، وَمَا فَتَحَ بَابَ مَسْأَلَةٍ يُرِيدُ بِهَا كَثْرَةً إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا قِلَّةً " . قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ إِلَى قَوْلِهِ : " فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو برا کہا: ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حیران ہوئے اور مسکرانے لگے ، جب اس شخص نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں زیادہ برا کہنا شروع کیا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے کسی بات کا جواب دے دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے اور کھڑے ہو گئے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ شخص مجھے برا کہہ رہا تھا ، آپ تشریف فرما رہے ، جب میں نے اس کی ایک بات کا جواب دیا ، تو آپ غصے میں آ گئے اور اٹھ کھڑے ہوئے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا ، جو تمہاری طرف سے جواب دے رہا تھا ، جب تم نے اس کی بات کا جواب دیدیا ، تو شیطان بیچ میں آ گیا ، تو میں شیطان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوبکر ! تین چیزیں ہیں ، جو حق ہیں ، جس بھی بندے کے ساتھ کوئی زیادتی کی جائے ، اور وہ اسے اللہ کے سپرد کر دے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اپنی مدد کے ذریعے اس شخص کو عزت عطا کرتا ہے ، اور جو بھی شخص عطیہ دینے کا دروازہ کھولتا ہے اور اس کے ذریعے اس کا مقصد صلہ رحمی کرنا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے مال میں اضافہ کر دیتا ہے ، اور جو بھی شخص مانگنے کا دروازہ کھولتا ہے ، اس کا مقصد اس کے ذریعے اپنے مال میں اضافہ کرنا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس وجہ سے اُس کی قلت میں اضافہ کر دیتا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے یہ روایت صرف ان الفاظ تک نقل کی ہے : ” میں شیطان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، امام أحمد کی روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13698
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (436/2)»