مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ وَالْعَفْوِ عَمَّنْ ظَلَمَ باب: عمدہ اخلاق کا بیان اور زیادتی کرنے والے کو معاف کرنا
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَرْفَعُ اللَّهُ بِهِ الدَّرَجَاتِ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " تَحْلُمُ عَنْ مَنْ جَهِلَ عَلَيْكَ ، وَتَعْفُو عَنْ مَنْ ظَلَمَكَ ، وَتُعْطِي مَنْ حَرَمَكَ ، وَتَصِلُ مَنْ قَطَعَكَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تم لوگوں کی رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ درجات بلند کرتا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اُس شخص کے لئے بردباری کا مظاہرہ کرو ، جو تمہارے خلاف جہالت کا مظاہرہ کرے ، تم اس شخص کو معاف کر دو جو تمہارے ساتھ زیادتی کرے ، تم اس شخص کو دو ، جو تمہیں محروم رکھے اور تم اس شخص کے ساتھ تعلق قائم رکھو ، جو تم سے لاتعلقی اختیار کرے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔