حدیث نمبر: 13695
وَعَنْ عُبَادَةَ أَيْضًا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِمَا يُشْرِفُ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ الْبُنْيَانَ وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَنْ تَحْلُمَ عَلَى مَنْ جَهِلَ عَلَيْكَ ، وَأَنْ تَصِلَ مَنْ قَطَعَكَ ، وَتُعْطِيَ مَنْ حَرَمَكَ ، وَتَعْفُوَ عَنْ مَنْ ظَلَمَكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں ان امور کے بارے میں اطلاع نہ دوں ؟ جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ بلند عمارت عطا کرتا ہے ، اور ان کے ذریعے درجات بلند کرتا ہے ، لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ یہ ہیں کہ تم اس شخص کے سامنے بردباری کا مظاہرہ کرو ، جو تمہارے خلاف جہالت کا مظاہرہ کرے ، تم اس شخص کے ساتھ تعلق اختیار کرو ، جو تمہارے ساتھ لاتعلقی اختیار کرے ، تم اس شخص کو دو ، جو تمہیں محروم رکھے ، اور تم اس شخص سے درگزر کرو ، جو تمہارے ساتھ زیادتی کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلیٰ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13695
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف