حدیث نمبر: 13666
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَأَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ رَجُلٍ فَقَالَ : " مَنْ يَعْرِفُهُ ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : أَنَا قَالَ : " مَا اسْمُهُ ؟ " . قَالَ : لَا أَدْرِي . قَالَ : " اسْمُ أَبِيهِ ؟ " . قَالَ : لَا أَدْرِي . قَالَ : " لَيْسَتْ هَذِهِ مَعْرِفَةٌ بِمَعْرِفَةٍ حَتَّى تَعْرِفَ اسْمَهُ وَاسْمَ أَبِيهِ وَقَبِيلَتَهُ ، إِنْ مَرِضَ عُدْتَهُ وَإِنْ مَاتَ اتَّبَعْتَ جِنَازَتَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَهْرَمَانُ آلِ الزُّبَيْرِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے فرمایا : کون اُس سے واقف ہے ؟ حاضرین میں سے ایک صاحب بولے : میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اُس کا نام کیا ہے ؟ ان صاحب نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اُس کے والد کا کیا نام ہے ؟ ان صاحب نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ معرفت نہیں ہے ، جب تک تمہیں اُس کا نام ، اُس کے باپ کا نام اور اس کے قبیلے کا نام پتہ نہیں ہوتا ، اگر وہ بیمار ہو ، تو تم اس کی عیادت کرو ، اگر وہ فوت ہو جائے ، تو تم اس کے جنازے کے ساتھ جاؤ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن دینار ہے ، جو آل زبیر کا منشی ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13666
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13227)»