حدیث نمبر: 13665
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ بِالْمَعْرُوفِ : يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ ، وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ ، وَيَنْصَحُ لَهُ بِالْغَيْبِ ، وَيُحِبُّ لَهُ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : لَمْ يَرْفَعْهُ أَبُو جَعْفَرٍ الْفَرَّاءُ وَرَفَعَهُ أَبُو إِسْحَاقَ السُّبَيْعِيُّ وَلَمْ يَسُقْ إِسْنَادَهُ إِلَى أَبِي إِسْحَاقَ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” ایک مسلمان کے ، دوسرے مسلمان پر بھلائی کے حوالے سے چھ حق ہیں ، جب وہ اس سے ملے تو اسے سلام کرے ، جب وہ اسے بلائے ، تو اسے جواب دے ، جب وہ چھینکے تو اسے چھینک کا جواب دے ، جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو ، اس کی غیر موجودگی میں اُس کی خیرخواہی کرے اور اس کے لئے وہی چیز پسند کرے ، جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ یہ فرماتے ہیں : کہ ابوجعفر فراء نے اسے ” مرفوع “ روایت کے طور پر نقل نہیں کیا ہے ، جبکہ ابواسحاق سبیعی نے اسے ” مرفوع “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، لیکن انہوں نے ابواسحاق سبیعی تک اس کی سند نقل نہیں کی ہے ، اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13665
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9748)»