کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حق کا بیان
حدیث نمبر: 13658
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ " . وَيَقُولُ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا تَوَادَّ اثْنَانِ فَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا إِلَّا بِذَنْبٍ يُحْدِثُهُ أَحَدُهُمَا " . وَكَانَ يَقُولُ : " لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ مِنَ الْمَعْرُوفِ سِتٌّ : يُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ ، وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ ، وَيَنْصَحُهُ إِذَا غَابَ ، وَيُشْهِدُهُ وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ ، وَيَتْبَعُهُ إِذَا مَاتَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک مسلمان ، دوسرے مسلمان کا بھائی ہوتا ہے ، وہ اُس پر ظلم نہیں کرتا ، وہ اسے رسوا نہیں کرتا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جب بھی دو افراد آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت رکھتے ہیں ، تو ان دونوں کے درمیان علیحدگی اس گناہ کی وجہ سے ہوتی ہے جس کا ارتکاب ان دونوں میں سے کسی ایک نے کیا ہوتا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ” ایک مسلمان کا اپنے بھائی کے ذمہ حق ہے کہ وہ ( اُس کے ساتھ ) چھ قسم کی بھلائی کرے ، جب وہ چھینکے ، تو اُسے چھینک کا جواب دے ، جب وہ بیمار ہو ، تو اس کی عیادت کرے ، جب وہ غیر موجود ہو ، تو اس کی خیرخواہی کرے ، جب وہ موجود ہو ، تو جب اس سے ملاقات ہو ، تو اُسے سلام کرے ، جب وہ اس کو دعوت پر بلائے ، تو اسے قبول کرے اور جب وہ مر جائے ، تو اُس کے جنازے کے ساتھ جائے ۔ “ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کو اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ لاتعلقی اختیار کرنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13658
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (5357)»
حدیث نمبر: 13659
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِيطٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي أَزْفَلَةٍ مِنَ النَّاسِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ ، التَّقْوَى هَهُنَا " . قَالَ حَمَّادٌ : وَقَالَ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
بنو سلیط سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کچھ لوگوں کے درمیان موجود تھے ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہوتا ہے ، وہ اُس پر ظلم نہیں کرتا ، وہ اُسے رُسوا نہیں کرتا اور تقویٰ یہاں ہوتا ہے ۔ “ حماد نامی راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے سینے کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13659
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6228) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (71/5)»
حدیث نمبر: 13660
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : إِنَّهُ جَمَعَهُمْ مَرْسًا لَهُمْ فِي الْبَحْرِ وَمَرْكَبُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ . قَالَ : فَلَمَّا حَضَرَ غَدَاؤُنَا أَرْسَلْنَا إِلَى أَبِي أَيُّوبَ وَإِلَى أَهْلِ مَرْكَبِهِ وَقَالَ : دَعَوْتُمُونِي وَأَنَا صَائِمٌ ، وَكَانَ عَلَيَّ مِنَ الْحَقِّ أَنْ أُجِيبَكُمْ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ سِتُّ خِصَالٍ وَاجِبَةٍ ، فَمَنْ تَرَكَ خَصْلَةً مِنْهَا فَقَدْ تَرَكَ حَقًّا وَاجِبًا : إِذَا دَعَاهُ أَنْ يُجِيبَهُ ، وَإِذَا لَقِيَهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيْهِ ، وَإِذَا عَطَسَ أَنْ يُشَمِّتَهُ ، وَإِذَا مَرِضَ أَنْ يَعُودَهُ ، وَإِذَا مَاتَ أَنْ يُشَيِّعَ جِنَازَتَهُ ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَهُ أَنْ يَنْصَحَهُ " . قَالَ : وَكَانَ فِينَا رَجُلٌ مَزَّاحٌ ، وَكَانَ عَلَى نَفَقَاتِنَا رَجُلٌ ، فَقَالَ الْمَزَّاحُ لِلَّذِي يَلِي الطَّعَامَ : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا وَبِرًّا . فَلَمَّا أَكْثَرَ عَلَيْهِ جَعَلَ يَغْضَبُ وَيَشْتُمُهُ ، فَقَالَ الْمَزَّاحُ : يَا أَبَا أَيُّوبَ ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ إِذَا أَنَا قُلْتُ لَهُ : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا وَبِرًّا ، غَضِبَ وَشَتَمَنِي ؟ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ : كُنَّا نَقُولُ : مَنْ لَمْ يُصْلِحْهُ الْخَيْرُ أَصْلَحَهُ الشَّرُّ قُلْتُ لَهُ . فَلَمَّا جَاءَ ذَلِكَ الرَّجُلُ قَالَ لَهُ ذَلِكَ الْمَزَّاحُ : جَزَاكَ اللَّهُ شَرًّا وَغُرًّا . فَضَحِكَ الرَّجُلُ وَرَضِيَ وَقَالَ : إِنَّكَ لَا تَدَعُ بِطَالَتَكَ فَقَالَ الْمَزَّاحُ : جَزَى اللَّهُ أَبَا أَيُّوبَ خَيْرًا وَبِرًّا فَقَدْ قَالَ لِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَثَّقَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن زیاد بن انعم بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ” ایک مرتبہ انہوں نے اپنی ایک سمندری مہم کے دوران اپنے ساتھیوں کو جمع کیا اور سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی بھی دعوت کی ، راوی بیان کرتے ہیں : جب کھانا تیار ہو گیا ، تو ہم نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا ، سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، تو انہوں نے فرمایا : جب تم لوگوں نے میری دعوت کی ، تو میں نے ( نفلی ) روزہ رکھا ہوا تھا ، لیکن میرے ذمہ یہ بات لازم تھی کہ میں تمہاری دعوت کو قبول کرتا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک مسلمان کے اپنے مسلمان بھائی کے لئے لازم حقوق ہیں ، جو شخص اُن میں سے کوئی ایک بھی چیز ترک کر دیتا ہے وہ ایک لازم حق کو ترک کر دیتا ہے ، جب وہ اُسے دعوت پر بلائے تو وہ جائے ، جب وہ اس سے ملے تو اسے سلام کرے ، جب وہ چھینکے تو اُسے چھینک کا جواب دے ، جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے ، جب وہ فوت ہو جائے ، تو اس کے جنازے کے ساتھ جائے ، اور جب وہ اس سے خیرخواہی کا طلبگار ہو ، تو اس کی خیرخواہی کرے ۔ “ راوی کہتے ہیں : ہمارے درمیان ایک شخص تھا ، جس کی طبیعت میں مزاح کا عنصر پایا جاتا تھا اور ایک شخص تھا ، جو ہمارے خرچ کا نگران تھا ، تو مزاحیہ شخص نے کھانا پکانے والے شخص سے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا کرے ، اور بھلائی دے ، جب اُس نے زیادہ مرتبہ یہ جملہ دوسرے شخص سے کہا: ، تو دوسرا شخص غصے میں آ گیا اور اس کو برا بھلا کہنے لگا ، مزاحیہ شخص نے کہا: اے سیدنا ابوایوب ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ میں نے ایک شخص سے یہ کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا کرے ، تو وہ غصے میں آ گیا اور مجھے برا کہنے لگا ، تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم لوگ یہ کہا: کرتے تھے کہ جس کو بھلائی موافق نہ آئے ، اس کو برائی موافق آ جاتی ہے ، تو تم اس کے ساتھ الٹ کر کے دیکھو ، پھر جب دوسرا شخص آیا ، تو مزاحیہ شخص نے اس سے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں برا بدلہ دے اور تنگدستی دے ، تو وہ شخص ہنس پڑا اور راضی ہو گیا ، اور وہ بولا: تم کسی بھی حالت میں اپنا مزاق نہیں چھوڑتے ہو ، تو اُس مزاحیہ شخص نے کہا: اللہ تعالیٰ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو جزائے خیر دے ، انہوں نے مجھ سے یہ بات کہی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عبدالرحمن نامی راوی کو یحیی القطان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13660
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4076)»
حدیث نمبر: 13661
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِلْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ : يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ ، وَإِذَا دَعَاهُ أَنْ يُجِيبَهُ ، وَإِذَا مَرِضَ أَنْ يَعُودَهُ ، وَإِذَا مَاتَ أَنْ يَشْهَدَهُ ، وَإِذَا غَابَ أَنْ يَنْصَحَهُ "
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک مومن کے ، دوسرے مومن پر چھ حق ہیں ، جب وہ اس سے ملے ، تو اسے سلام کرے ، جب وہ چھینکے ، تو اسے چھینک کا جواب دے ، جب وہ اس کی دعوت کرے ، تو دعوت قبول کرے ، جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے ، جب وہ فوت ہو جائے ، تو اس کے جنازے میں شریک ہو ، اور جب وہ غیر موجود ہو تو اُس کی خیرخواہی کرے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13661
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 13662
وَفِي رِوَايَةٍ : " وَإِنْ دَعَاهُ وَلَوْ عَلَى كُرَاعٍ أَجَابَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جب وہ اُس کی دعوت کرے ، تو اسے قبول کرے ، خواہ اُس نے ( جانور کے ) ایک پائے کی ہی دعوت کی ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13662
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ رِجالُہ
حدیث نمبر: 13663
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْمُسْلِمُ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ ، دَمُهُ وَعِرْضُهُ وَمَالُهُ ، الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ ، التَّقْوَى هَهُنَا - وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْقَلْبِ - وَحَسْبُ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يُحَقِّرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ " . قُلْتُ : عَزَاهُ فِي الْأَطْرَافِ بِاخْتِصَارٍ إِلَى أَبِي دَاوُدَ فِي غَيْرِ رِوَايَةِ اللُّؤْلُؤِيِّ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک مسلمان کا خون ( یعنی جان ) عزت اور مال ، دوسرے مسلمان کے لئے حرام ہیں ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہوتا ہے ، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا ہے ، وہ اس کو رسوا نہیں کرتا ہے ، تقویٰ یہاں ہوتا ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل کی طرف اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ( اور پھر یہ فرمایا : ) ” آدمی کی برائی کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” اطراف “ کے مصنف نے اس روایت کے اختصار کی نسبت امام ابوداؤد کی طرف کی ہے ، جو اس نسخے کے علاوہ ہے ، جو لؤلؤی نے نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13663
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (74/22) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (491/3)»
حدیث نمبر: 13664
وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ : لَقِيَ مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَهُوَ رَاكِبٌ عَلَى حِمَارٍ سَاقِطَةٌ أُذُنَاهُ رَثُّ السَّرْجِ وَالثِّيَابِ ، فَقَالَ لَهُ سَالِمٌ : مِمَّنِ الرَّجُلُ ؟ فَقَالَ لَهُ : مِنْكَ وَإِلَيْكَ وَمِنْ بَعْضِ مَوَالِيكَ . فَقَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ ، لَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَخُونُهُ وَلَا يَنْسَاهُ فِي مُصِيبَةٍ نَزَلَتْ بِهِ ، وَإِنْ تَلِفَ خِيَارُ الْعَرَبِ وَالْمَوَالِي يُحِبُّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا لَا يَجِدُونَ مِنْ ذَلِكَ بُدًّا ، وَإِنْ تَلِفَ شَرُّ الْفَرِيقَيْنِ يُبْغِضُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا لَا يَجِدُونَ مِنْ ذَلِكَ بُدًّا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
عبید بن زیاد حضرمی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مالک بن دینار کی ملاقات سالم بن عبداللہ بن عمر بن خطاب سے ہوئی ، جو اُس وقت ایک ایسے گدھے پر سوار تھے ، جس کے کان لٹکے ہوئے تھے ، اس کی زین کی حالت خراب تھی ، اُن صاحب کے کپڑے بھی خراب تھے ، سالم نے اُن سے دریافت کیا : آپ کا تعلق کہاں سے ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : آپ لوگوں سے اور آپ کے بعض موالی سے ہے ، تو انہوں نے بتایا : میرے والد نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہوتا ہے ، وہ اُسے رسوائی کا شکار نہیں کرتا ، وہ اس کے ساتھ خیانت نہیں کرتا ، وہ اسے لاحق ہونے والی کسی مصیبت میں اُس کے حال پر نہیں چھوڑتا ، اگر عربوں کے بہترین لوگ اور موالی خراب ہو جائیں اور وہ ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہوں ، تو اُن کے لئے اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہو گا ، اور اگر ان دونوں فریقوں میں سے برے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے ضائع ہو جائیں ، تو ان کے لئے اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13664
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید۔
تخریج حدیث «اخرجه الطيراني فى المعجم الكبير (13239)»
حدیث نمبر: 13665
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ بِالْمَعْرُوفِ : يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ ، وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ ، وَيَنْصَحُ لَهُ بِالْغَيْبِ ، وَيُحِبُّ لَهُ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : لَمْ يَرْفَعْهُ أَبُو جَعْفَرٍ الْفَرَّاءُ وَرَفَعَهُ أَبُو إِسْحَاقَ السُّبَيْعِيُّ وَلَمْ يَسُقْ إِسْنَادَهُ إِلَى أَبِي إِسْحَاقَ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” ایک مسلمان کے ، دوسرے مسلمان پر بھلائی کے حوالے سے چھ حق ہیں ، جب وہ اس سے ملے تو اسے سلام کرے ، جب وہ اسے بلائے ، تو اسے جواب دے ، جب وہ چھینکے تو اسے چھینک کا جواب دے ، جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو ، اس کی غیر موجودگی میں اُس کی خیرخواہی کرے اور اس کے لئے وہی چیز پسند کرے ، جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ یہ فرماتے ہیں : کہ ابوجعفر فراء نے اسے ” مرفوع “ روایت کے طور پر نقل نہیں کیا ہے ، جبکہ ابواسحاق سبیعی نے اسے ” مرفوع “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، لیکن انہوں نے ابواسحاق سبیعی تک اس کی سند نقل نہیں کی ہے ، اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13665
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9748)»
حدیث نمبر: 13666
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَأَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ رَجُلٍ فَقَالَ : " مَنْ يَعْرِفُهُ ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : أَنَا قَالَ : " مَا اسْمُهُ ؟ " . قَالَ : لَا أَدْرِي . قَالَ : " اسْمُ أَبِيهِ ؟ " . قَالَ : لَا أَدْرِي . قَالَ : " لَيْسَتْ هَذِهِ مَعْرِفَةٌ بِمَعْرِفَةٍ حَتَّى تَعْرِفَ اسْمَهُ وَاسْمَ أَبِيهِ وَقَبِيلَتَهُ ، إِنْ مَرِضَ عُدْتَهُ وَإِنْ مَاتَ اتَّبَعْتَ جِنَازَتَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَهْرَمَانُ آلِ الزُّبَيْرِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے فرمایا : کون اُس سے واقف ہے ؟ حاضرین میں سے ایک صاحب بولے : میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اُس کا نام کیا ہے ؟ ان صاحب نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اُس کے والد کا کیا نام ہے ؟ ان صاحب نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ معرفت نہیں ہے ، جب تک تمہیں اُس کا نام ، اُس کے باپ کا نام اور اس کے قبیلے کا نام پتہ نہیں ہوتا ، اگر وہ بیمار ہو ، تو تم اس کی عیادت کرو ، اگر وہ فوت ہو جائے ، تو تم اس کے جنازے کے ساتھ جاؤ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن دینار ہے ، جو آل زبیر کا منشی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13666
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13227)»