حدیث نمبر: 13664
وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ : لَقِيَ مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَهُوَ رَاكِبٌ عَلَى حِمَارٍ سَاقِطَةٌ أُذُنَاهُ رَثُّ السَّرْجِ وَالثِّيَابِ ، فَقَالَ لَهُ سَالِمٌ : مِمَّنِ الرَّجُلُ ؟ فَقَالَ لَهُ : مِنْكَ وَإِلَيْكَ وَمِنْ بَعْضِ مَوَالِيكَ . فَقَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ ، لَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَخُونُهُ وَلَا يَنْسَاهُ فِي مُصِيبَةٍ نَزَلَتْ بِهِ ، وَإِنْ تَلِفَ خِيَارُ الْعَرَبِ وَالْمَوَالِي يُحِبُّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا لَا يَجِدُونَ مِنْ ذَلِكَ بُدًّا ، وَإِنْ تَلِفَ شَرُّ الْفَرِيقَيْنِ يُبْغِضُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا لَا يَجِدُونَ مِنْ ذَلِكَ بُدًّا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین

عبید بن زیاد حضرمی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مالک بن دینار کی ملاقات سالم بن عبداللہ بن عمر بن خطاب سے ہوئی ، جو اُس وقت ایک ایسے گدھے پر سوار تھے ، جس کے کان لٹکے ہوئے تھے ، اس کی زین کی حالت خراب تھی ، اُن صاحب کے کپڑے بھی خراب تھے ، سالم نے اُن سے دریافت کیا : آپ کا تعلق کہاں سے ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : آپ لوگوں سے اور آپ کے بعض موالی سے ہے ، تو انہوں نے بتایا : میرے والد نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہوتا ہے ، وہ اُسے رسوائی کا شکار نہیں کرتا ، وہ اس کے ساتھ خیانت نہیں کرتا ، وہ اسے لاحق ہونے والی کسی مصیبت میں اُس کے حال پر نہیں چھوڑتا ، اگر عربوں کے بہترین لوگ اور موالی خراب ہو جائیں اور وہ ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہوں ، تو اُن کے لئے اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہو گا ، اور اگر ان دونوں فریقوں میں سے برے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے ضائع ہو جائیں ، تو ان کے لئے اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13664
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید۔
تخریج حدیث «اخرجه الطيراني فى المعجم الكبير (13239)»