حدیث نمبر: 13660
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : إِنَّهُ جَمَعَهُمْ مَرْسًا لَهُمْ فِي الْبَحْرِ وَمَرْكَبُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ . قَالَ : فَلَمَّا حَضَرَ غَدَاؤُنَا أَرْسَلْنَا إِلَى أَبِي أَيُّوبَ وَإِلَى أَهْلِ مَرْكَبِهِ وَقَالَ : دَعَوْتُمُونِي وَأَنَا صَائِمٌ ، وَكَانَ عَلَيَّ مِنَ الْحَقِّ أَنْ أُجِيبَكُمْ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ سِتُّ خِصَالٍ وَاجِبَةٍ ، فَمَنْ تَرَكَ خَصْلَةً مِنْهَا فَقَدْ تَرَكَ حَقًّا وَاجِبًا : إِذَا دَعَاهُ أَنْ يُجِيبَهُ ، وَإِذَا لَقِيَهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيْهِ ، وَإِذَا عَطَسَ أَنْ يُشَمِّتَهُ ، وَإِذَا مَرِضَ أَنْ يَعُودَهُ ، وَإِذَا مَاتَ أَنْ يُشَيِّعَ جِنَازَتَهُ ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَهُ أَنْ يَنْصَحَهُ " . قَالَ : وَكَانَ فِينَا رَجُلٌ مَزَّاحٌ ، وَكَانَ عَلَى نَفَقَاتِنَا رَجُلٌ ، فَقَالَ الْمَزَّاحُ لِلَّذِي يَلِي الطَّعَامَ : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا وَبِرًّا . فَلَمَّا أَكْثَرَ عَلَيْهِ جَعَلَ يَغْضَبُ وَيَشْتُمُهُ ، فَقَالَ الْمَزَّاحُ : يَا أَبَا أَيُّوبَ ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ إِذَا أَنَا قُلْتُ لَهُ : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا وَبِرًّا ، غَضِبَ وَشَتَمَنِي ؟ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ : كُنَّا نَقُولُ : مَنْ لَمْ يُصْلِحْهُ الْخَيْرُ أَصْلَحَهُ الشَّرُّ قُلْتُ لَهُ . فَلَمَّا جَاءَ ذَلِكَ الرَّجُلُ قَالَ لَهُ ذَلِكَ الْمَزَّاحُ : جَزَاكَ اللَّهُ شَرًّا وَغُرًّا . فَضَحِكَ الرَّجُلُ وَرَضِيَ وَقَالَ : إِنَّكَ لَا تَدَعُ بِطَالَتَكَ فَقَالَ الْمَزَّاحُ : جَزَى اللَّهُ أَبَا أَيُّوبَ خَيْرًا وَبِرًّا فَقَدْ قَالَ لِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَثَّقَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

عبدالرحمن بن زیاد بن انعم بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ” ایک مرتبہ انہوں نے اپنی ایک سمندری مہم کے دوران اپنے ساتھیوں کو جمع کیا اور سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی بھی دعوت کی ، راوی بیان کرتے ہیں : جب کھانا تیار ہو گیا ، تو ہم نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا ، سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، تو انہوں نے فرمایا : جب تم لوگوں نے میری دعوت کی ، تو میں نے ( نفلی ) روزہ رکھا ہوا تھا ، لیکن میرے ذمہ یہ بات لازم تھی کہ میں تمہاری دعوت کو قبول کرتا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک مسلمان کے اپنے مسلمان بھائی کے لئے لازم حقوق ہیں ، جو شخص اُن میں سے کوئی ایک بھی چیز ترک کر دیتا ہے وہ ایک لازم حق کو ترک کر دیتا ہے ، جب وہ اُسے دعوت پر بلائے تو وہ جائے ، جب وہ اس سے ملے تو اسے سلام کرے ، جب وہ چھینکے تو اُسے چھینک کا جواب دے ، جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے ، جب وہ فوت ہو جائے ، تو اس کے جنازے کے ساتھ جائے ، اور جب وہ اس سے خیرخواہی کا طلبگار ہو ، تو اس کی خیرخواہی کرے ۔ “ راوی کہتے ہیں : ہمارے درمیان ایک شخص تھا ، جس کی طبیعت میں مزاح کا عنصر پایا جاتا تھا اور ایک شخص تھا ، جو ہمارے خرچ کا نگران تھا ، تو مزاحیہ شخص نے کھانا پکانے والے شخص سے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا کرے ، اور بھلائی دے ، جب اُس نے زیادہ مرتبہ یہ جملہ دوسرے شخص سے کہا: ، تو دوسرا شخص غصے میں آ گیا اور اس کو برا بھلا کہنے لگا ، مزاحیہ شخص نے کہا: اے سیدنا ابوایوب ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ میں نے ایک شخص سے یہ کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا کرے ، تو وہ غصے میں آ گیا اور مجھے برا کہنے لگا ، تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم لوگ یہ کہا: کرتے تھے کہ جس کو بھلائی موافق نہ آئے ، اس کو برائی موافق آ جاتی ہے ، تو تم اس کے ساتھ الٹ کر کے دیکھو ، پھر جب دوسرا شخص آیا ، تو مزاحیہ شخص نے اس سے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں برا بدلہ دے اور تنگدستی دے ، تو وہ شخص ہنس پڑا اور راضی ہو گیا ، اور وہ بولا: تم کسی بھی حالت میں اپنا مزاق نہیں چھوڑتے ہو ، تو اُس مزاحیہ شخص نے کہا: اللہ تعالیٰ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو جزائے خیر دے ، انہوں نے مجھ سے یہ بات کہی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عبدالرحمن نامی راوی کو یحیی القطان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13660
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4076)»