مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ حَقِّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ باب: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حق کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ " . وَيَقُولُ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا تَوَادَّ اثْنَانِ فَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا إِلَّا بِذَنْبٍ يُحْدِثُهُ أَحَدُهُمَا " . وَكَانَ يَقُولُ : " لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ مِنَ الْمَعْرُوفِ سِتٌّ : يُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ ، وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ ، وَيَنْصَحُهُ إِذَا غَابَ ، وَيُشْهِدُهُ وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ ، وَيَتْبَعُهُ إِذَا مَاتَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک مسلمان ، دوسرے مسلمان کا بھائی ہوتا ہے ، وہ اُس پر ظلم نہیں کرتا ، وہ اسے رسوا نہیں کرتا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جب بھی دو افراد آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت رکھتے ہیں ، تو ان دونوں کے درمیان علیحدگی اس گناہ کی وجہ سے ہوتی ہے جس کا ارتکاب ان دونوں میں سے کسی ایک نے کیا ہوتا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ” ایک مسلمان کا اپنے بھائی کے ذمہ حق ہے کہ وہ ( اُس کے ساتھ ) چھ قسم کی بھلائی کرے ، جب وہ چھینکے ، تو اُسے چھینک کا جواب دے ، جب وہ بیمار ہو ، تو اس کی عیادت کرے ، جب وہ غیر موجود ہو ، تو اس کی خیرخواہی کرے ، جب وہ موجود ہو ، تو جب اس سے ملاقات ہو ، تو اُسے سلام کرے ، جب وہ اس کو دعوت پر بلائے ، تو اسے قبول کرے اور جب وہ مر جائے ، تو اُس کے جنازے کے ساتھ جائے ۔ “ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کو اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ لاتعلقی اختیار کرنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔