مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مُدَارَاةِ النَّاسِ وَمَنْ لَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ باب: لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، اور جس شخص کے شر سے ( خود ) محفوظ نہ سمجھا جائے اس بارے میں کتاب الادب میں کچھ روایات گزر چکی ہیں اور ان میں سے کچھ باقی رہ گئی ہیں
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَوَّلَ هَذِهِ الْأُمَّةِ خِيَارُهُمْ وَآخِرَهَا شِرَارُهُمْ ، مُخْتَلِفِينَ مُتَفَرِّقِينَ ، فَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْتَأْتِهِ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يَأْتِي إِلَى النَّاسِ مَا يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُفَضَّلُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس اُمت کے ابتدائی حصے کے لوگ بہتر ہیں ، اور اس کے آخری حصے کے لوگ بدترین ہوں گے ، جو آپس میں اختلاف رکھنے والے ہوں گے ، اور ایک دوسرے سے الگ ہوں گے ، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، جب اُسے موت آئے تو اس کی یہ حالت ہونی چاہیے کہ وہ لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرتا ہو ، جس کے بارے میں وہ یہ پسند کرتا ہو کہ اُس کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مفضل بن معروف ہے ، اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔