مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الضِّيَافَةِ باب: مہمان نوازی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ نُمَيْرِ بْنِ خَرَشَةَ الثَّقَفِيِّ قَالَ : وَفَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَدْرَكْنَاهُ بِالْجَحْفَةِ ، فَاسْتَبْشَرَ النَّاسُ بِقُدُومِنَا ، فَأَسْلَمْنَا ، وَأَمَرَهُمْ بِالْقُدُومِ مَعَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَكَانَ يَحُضُّ إِخْوَانَهُمْ مِنَ النَّاسِ كُلَّ عَشِيَّةٍ عَلَيْهِمْ يُضَيِّفُونَهُمْ فَيَقُولُ : " إِخْوَانُكُمْ ضِيفَانُكُمْ ، كُلُّ امْرِئٍ بِقَدْرِ مَا وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ " . فَيَقُومُ الرَّجُلُ فَيَأْخُذُ الرَّجُلَ وَالرَّجُلَيْنِ ، وَكَانَ يَأْخُذُ الثَّلَاثَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْمُسْتَمْلِي ، وَهُوَ وَضَّاعٌ . ¤سیدنا نمیر بن خرشہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” ہم لوگ وفد کی شکل میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جحفہ کے مقام پر ، ہم آپ کے پاس پہنچ گئے ، لوگ ہماری آمد سے خوش ہوئے ، ہم نے اسلام قبول کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں کو حکم دیا کہ وہ آپ کے ساتھ مدینہ منورہ جائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ترغیب دیتے رہے کہ وہ روزانہ شام کے وقت ان لوگوں کی مہمان نوازی کریں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے : ” یہ تمہارے بھائی تمہارے مہمان بنے ہیں ، ہر شخص اُس کے مطابق خرچ کرے ، جو اللہ تعالیٰ نے اسے گنجائش عطا کی ہو ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : تو کوئی شخص ایک شخص کو اپنے ساتھ لے جاتا تھا ، کوئی دو کو ساتھ لے جاتا تھا ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تین افراد کو ساتھ لے کر گئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یزید مستملی ہے ، اور وہ حدیث ایجاد کرنے والا شخص ہے ۔