حدیث نمبر: 13626
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَلْبَسَهُ اللَّهُ نِعْمَةً فَلْيُكْثِرْ مِنَ الْحَمْدِ لِلَّهِ ، وَمَنْ كَثُرَتْ هُمُومُهُ فَلْيَسْتَغْفِرْ ، وَمَنْ أَبْطَأَ عَنْهُ رِزْقَهُ فَلْيُكْثِرْ مِنْ قَوْلِ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، وَمَنْ نَزَلَ مَعَ قَوْمٍ فَلَا يَصُومَنَّ إِلَّا بِإِذْنِهِمْ ، وَمَنْ دَخَلَ دَارَ قَوْمٍ فَلْيَجْلِسْ حَيْثُ أَمَرُوهُ ; فَإِنَّ الْقَوْمَ أَعْلَمُ بِعَوْرَةِ دَارِهِمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَزَادَ فِيهِ : " وَإِنَّ مِنَ الذَّنْبِ الْمَسْخُوطِ بِهِ عَلَى صَاحِبِهِ الْحِقْدَ فِي الْحَسَدِ ، وَالْكَسَلَ فِي الْعِبَادَةِ ، وَالضَّنْكَ فِي الْمَعِيشَةِ " . وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ تَمِيمٍ ، ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ ، وَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي تَرْجَمَتِهِ ، وَلَمْ يُذْكَرْ عَنْ أَحَدٍ تَضْعِيفُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے نعمتیں عطا کی ہوں ، اُسے بکثرت اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنی چاہیے ، اور جس شخص کی پریشانی زیادہ ہو ، اسے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنی چاہیے ، جس شخص کا رزق اس کے پاس آنے میں تاخیر ہو جائے ، اُسے کثرت کے ساتھ لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھنا چاہیے ، اور جو شخص کسی قوم کے پاس مہمان کے طور پر آئے ، وہ اُن کی اجازت کے بغیر ہرگز ( نفلی ) روزہ نہ رکھے اور جو شخص کسی قوم کے گھر میں داخل ہو ، اسے وہاں بیٹھ جانا چاہیے ، جہاں وہ لوگ اسے ہدایت کریں ، کیونکہ وہ لوگ اپنے گھر کے اندرونی معاملات کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس میں یہ الفاظ مزید نقل کیے ہیں : ” بے شک گناہ میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ جس گناہ کی وجہ سے ، کرنے والے فرد پر ناراضگی ہوتی ہے ، حسد میں کینہ ، عبادت میں کوتاہی اور معیشت میں تنگی ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی یونس بن تمیم ہے ، امام ذہبی نے اس کا ذکر ” میزان الاعتدال “ میں کیا ہے ، اور انہوں نے یہ حدیث اس کے حالات کے ضمن میں نقل کی ہے ، انہوں نے کسی سے اس کی تضعیف روایت نہیں کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13626
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (965)»