حدیث نمبر: 13624
وَعَنْ شِهَابِ بْنِ عَبَّادٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ وَهُمْ يَقُولُونَ : قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاشْتَدَّ فَرَحُهُمْ بِنَا ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ أَوْسَعُوا لَنَا فَقَعَدْنَا ، فَرَحَّبَ بِنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَعَا لَنَا ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْنَا فَقَالَ : " مَنْ سَيِّدُكُمْ وَزَعِيمُكُمْ ؟ " . فَأَشَرْنَا جَمِيعًا إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ عَائِذٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَهَذَا الْأَشَجُّ ؟ " . فَكَانَ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ عَلَيْهِ هَذَا الِاسْمُ بِضَرْبَةٍ بِوَجْهِهِ بِحَافِرِ حِمَارٍ ، قُلْنَا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَتَخَلَّفَ بَعْدَ الْقَوْمِ ، فَعَقَلَ رَوَاحِلَهُمْ وَضَمَّ مَتَاعَهُمْ ، ثُمَّ أَخْرَجَ عَيْبَتَهُ فَأَلْقَى عَنْهُ ثِيَابَ السَّفَرِ ، وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ بَسَطَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رِجْلَهُ وَاتَّكَأَ ، فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ الْأَشَجُّ أَوْسَعَ الْقَوْمُ لَهُ وَقَالُوا : هَهُنَا يَا أَشَجُّ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْتَوَى قَاعِدًا وَقَبَضَ رِجْلَهُ : " هَهُنَا يَا أَشُجُّ " . فَقَعَدَ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَحَّبَ بِهِ وَأَلْطَفَهُ وَسَأَلَهُمْ عَنْ بِلَادِهِمْ وَسَمَّى لَهُمْ قَرْيَةً ، قَرْيَةَ الصَّفَا وَالْمُشَقَّرِ وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قُرَى هَجَرَ ، فَقَالَ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَأَنْتَ أَعْلَمُ بِأَسْمَاءَ قُرَانَا مِنَّا . فَقَالَ : " إِنِّي وَطِئْتُ بِلَادَكُمْ وَفُسِّحَ لِي فِيهَا " . قَالَ : ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْأَنْصَارِ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَكْرِمُوا إِخْوَانَكُمْ فَإِنَّهُمْ أَشْبَاهُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ ، أَشْبَهُ شَيْءٍ بِكُمْ أَشْعَارًا وَأَبْشَارًا ، أَسْلَمُوا طَائِعِينَ غَيْرَ مُكْرَهِينَ وَلَا مَوْتُورِينَ ، إِذَا أَبَى قَوْمٌ أَنْ يُسْلِمُوا حَتَّى قُتِلُوا " . قَالَ : فَلَمَّا أَصْبَحُوا قَالَ : " وَكَيْفَ رَأَيْتُمْ كَرَامَةَ إِخْوَانِكُمْ لَكُمْ وَضِيَافَتَهُمْ إِيَّاكُمْ ؟ " . قَالُوا : خَيْرَ إِخْوَانٍ أَلَانُوا فِرَاشَنَا ، وَأَطَابُوا مَطْعَمَنَا ، وَبَاتُوا وَأَصْبَحُوا يُعَلِّمُونَا كِتَابَ رَبِّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَأَعْجَبَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفَرِحَ بِهَا ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَجُلًا رَجُلًا يَعْرِضُنَا عَلَى مَنْ يُعَلِّمُنَا وَعَلَّمَنَا ، فَمِنَّا مَنْ عُلِّمَ التَّحِيَّاتِ وَأُمَّ الْكِتَابِ وَالسُّورَةَ وَالسُّورَتَيْنِ وَالسُّنَنَ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ : " هَلْ مَعَكُمْ مَنْ أَزْوَادِكُمْ ؟ " . فَفَرِحَ الْقَوْمُ بِذَلِكَ وَابْتَدَرُوا رَوَاحِلَهُمْ ، فَأَقْبَلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَعَهُ صُبْرَةٌ مِنْ تَمْرٍ فَوَضَعَهَا عَلَى نِطْعٍ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَأَوْمَأَ بِجَرِيدَةٍ فِي يَدِهِ كَانَ يَتَخَصَّرُ بِهَا فَوْقَ الذِّرَاعِ وَدُونَ الذِّرَاعَيْنِ فَقَالَ : " تُسَمُّونَ هَذَا التَّعْضُوضَ ؟ " . قُلْنَا : نَعَمْ . ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَى صُبْرَةٍ أُخْرَى فَقَالَ : " تُسَمُّونَ هَذَا الصَّرَفَانَ ؟ " . قُلْنَا : نَعَمْ . ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَى صُبْرَةٍ أُخْرَى فَقَالَ : " تُسَمُّونَ هَذَا الْبَرْنِيَّ ؟ " . قُلْنَا : نَعَمْ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَا إِنَّهُ مِنْ خَيْرِ تَمْرِكُمْ وَأَنْفَعِهِ لَكُمْ " . قَالَ : فَرَجَعْنَا مِنْ وِفَادَتِنَا تِلْكَ ، فَأَكْثَرْنَا الْغَرْزَ مِنْهُ ، وَعَظُمَتْ رَغْبَتُنَا فِيهِ ، حَتَّى صَارَ أَعْظَمُ نَخْلِنَا وَتَمْرِنَا الْبَرْنِيُّ . قَالَ : فَقَالَ الْأَشَجُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ ثَقِيلَةٌ وَخِمَةٌ ، وَإِنَّا إِذَا لَمْ نَشْرَبْ هَذِهِ الْأَشْرِبَةَ هُيِّجَتْ أَلْوَانُنَا وَعَظُمَتْ بُطُونُنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ ، وَلْيَشْرَبْ أَحَدُكُمْ عَلَى سِقَاءٍ يُلَاثُ عَلَى فِيهِ " . فَقَالَ لَهُ الْأَشَجُّ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَخِّصْ لَنَا فِي مِثْلِ هَذِهِ ، وَأَوْمَأَ بِكَفَّيْهِ . فَقَالَ : " يَا أَشَجُّ ، إِنِّي إِنْ رَخَّصْتُ لَكَ فِي مِثْلِ هَذِهِ - وَقَالَ بِكَفَّيْهِ هَكَذَا - شَرِبْتَهُ فِي مِثْلِ هَذِهِ " . وَفَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَبَسَطَهُمَا - يَعْنِي أَعْظَمَ مِنْهَا " حَتَّى إِذَا ثَمِلَ أَحَدُكُمْ مِنْ شَرَابِهِ قَامَ إِلَى ابْنِ عَمِّهِ فَهَزَرَ ( ضَرَبَ ) سَاقَهُ بِالسَّيْفِ " . وَكَانَ فِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَضَلٍ يُقَالُ لَهُ : الْحَارِثُ ، قَدْ هُزِرَتْ سَاقُهُ فِي شَرَابٍ لَهُمْ ، فِي بَيْتٍ مِنَ الشِّعْرِ تَمَثَّلَ بِهِ فِي امْرَأَةٍ مِنْهُمْ ، فَقَامَ بَعْضُ أَهْلِ ذَلِكَ الْبَيْتِ فَهَزَرَ سَاقَهُ بِالسَّيْفِ ، فَقَالَ الْحَارِثُ : لَمَّا سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَعَلْتُ أُسْدِلُ ثَوْبِي فَأُغَطِّي الضَّرْبَةَ بِسَاقِي وَقَدْ أَبْدَاهَا اللَّهُ لِنَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

شہاب بن عباد بیان کرتے ہیں : انہوں نے عبدالقیس قبیلے کے وفد کے بعض افراد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : ” ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو لوگ ہماری وجہ سے بہت خوش ہوئے ، جب ہم ان لوگوں کے پاس پہنچے ، تو انہوں نے ہمارے لیے گنجائش پیدا کی ، ہم بیٹھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خوش آمدید کہا: ، آپ نے ہمارے لئے دعا کی ، پھر آپ نے ہماری طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا : تمہارا سردار اور تمہارا قائد کون ہے ؟ تو ہم سب نے سیدنا منذر بن عائد رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا یہ شخص جس پر زخم کا نشان ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : ان صاحب کا پہلے دن یہ نام رکھا گیا ، وہ ( نشان ) اُس ضرب کی وجہ سے تھا ، جو گدھے کا پاؤں لگنے سے ان کے چہرے پر لگی تھی ، ہم نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! راوی بیان کرتے ہیں : وہ صاحب باقی لوگوں سے پیچھے رہ گئے تھے ، انہوں نے ان لوگوں کی سواریاں باندھیں ، اُن کا سامان اکٹھا کیا ، پھر اپنا تھیلا نکالا ، پھر سفر کے کپڑے اُتار کر عمدہ لباس پہنا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں کو پھیلایا ہوا تھا ، اور آپ ٹیک لگا کے بیٹھے ہوئے تھے ، جب اشج ان کے قریب آئے ، تو لوگوں نے ان کے لیے گنجائش پیدا کی اور یہ کہا: اشج ! آپ یہاں آ جائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے ، آپ نے اپنا پاؤں سمیٹ لیا اور فرمایا : اے اشج ! یہاں آ جاؤ ! تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف بیٹھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خوش آمدید کہا: ، ان کے ساتھ مہربانی کا سلوک کیا ، ان کے علاقوں کے بارے میں ان لوگوں سے دریافت کیا ، آپ نے ان کے علاقے کی ایک ایک بستی کا نام لے کر ان سے دریافت کیا ، جیسے صفا ، مشقر اور ہجر کی دوسری بستیاں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ ہماری بستیوں کے ناموں کے بارے میں ، ہم سے زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہارے علاقوں سے گزرا ، اور وہاں میرے لیے گنجائش پیدا کی گئی ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی طرف متوجہ ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : اے انصار کے گروہ ! اپنے بھائیوں کی عزت افزائی کرو ، یہ اسلام میں تمہاری مانند ہیں ، اور بیرونی و اندرونی لباس ( یعنی ظاہر و باطن ) کے حوالے سے ، تمہارے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں ، انہوں نے اپنی رضامندی کے ساتھ کسی زبردستی کے بغیر اسلام قبول کیا ہے ، جبکہ دوسرے لوگوں نے اس وقت تک اسلام کو قبول نہیں کیا ، جب تک ان کے ساتھ لڑائی نہیں کی گئی ، راوی بیان کرتے ہیں : اگلے دن صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارے بھائیوں نے تمہاری عزت افزائی کیسی کی ؟ اور تمہاری مہمان نوازی کیسی کی ؟ اُن لوگوں نے جواب دیا : یہ بہترین بھائی تھے ، انہوں نے ہمیں نرم بچھونے دیے ، عمدہ کھانے کھلائے اور رات کے وقت اور صبح کے وقت ہمیں ہمارے پروردگار کی کتاب اور ہمارے نبی کی سنت کی تعلیم دی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات اچھی لگی اور آپ اس حوالے سے خوش ہوئے ، پھر آپ ہم میں سے ایک شخص کی طرف متوجہ ہوتے اور اسے اس شخص کے سپرد کر دیتے ، جو ہمیں تعلیم دے ، یہاں تک کہ ہم میں سے کسی کو ” التحیات ، سورہ فاتحہ ، ایک یا دو سورتوں اور چند سنتوں “ کا علم حاصل ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس زاد سفر ( میں دینے ) کے لیے کچھ ہے ؟ تو لوگ اس بات پر خوش ہوئے ، اور وہ تیزی سے اپنے رہائشی علاقوں کی طرف گئے ، ان میں سے ہر شخص اپنے ساتھ کچھ لے کے آیا ، کوئی کھجوروں کا ڈھیر لے آیا ، اور وہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے موجود دسترخوان پر رکھ دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی کے ذریعے اشارہ کر دیتے تھے ، آپ اس کے ساتھ ٹیک لگایا کرتے تھے ، اور وہ ایک ذراع سے بڑی تھی اور دو ذراع سے چھوٹی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اسے ” تغموض “ کا نام دیتے ہو ؟ ہم نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے ڈھیر کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : تم لوگ اسے ” صرفان “ کہتے ہو ؟ ہم نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھیر کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : تم لوگ اسے ” برنی “ کہتے ہو ؟ ہم نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ تمہاری کھجوروں میں سب سے زیادہ بہتر ہے ، اور تمہارے لئے سب سے زیادہ فائدہ مند ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : جب ہم اس سفر سے واپس آئے ، تو ہم نے وہ کھجوریں زیادہ کاشت کرنی شروع کر دی تھیں ، اور ان میں ہماری رغبت بڑھ گئی تھی ، یہاں تک کہ ہمارے کھجوروں کے زیادہ تر درخت برنی کھجوروں کے ہو گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا اشج رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ہماری زمین ایسی ہے ، جہاں کی آب و ہوا طبیعت کو موافق نہیں ہوتی ، ہم جب تک یہ مشروبات نہیں پیتے ہیں ، ہماری رنگت میں ہیجان رہتا ہے ، اور ہمارے پیٹ بڑھے رہتے ہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ دباء ، حلتم اور نقیر میں نہ پیو ، تم میں سے کوئی ایک شخص کسی ایسے مشکیزے میں سے پی سکتا ہے ، جس کے منہ کو بند کر دیا گیا ہو ، سیدنا اشج رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ اتنی کے بارے میں ، ہمیں رخصت عطا کیجیے ! اُن صاحب نے دونوں ہاتھوں کے ذریعے اشارہ کر کے یہ گزارش کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اشج ! اگر میں نے تمہیں اتنی کی اجازت دیدی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ ملا کر اس طرح اشارہ کر کے یہ بات فرمائی ۔ تو تم اتنی پی لو گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ کھلے کر کے اور انہیں پھیلا کر یہ بات ارشاد فرمائی ( یعنی تم اُس سے زیادہ پی لو گے ) یہاں تک کہ جب اُس کو پینے کی وجہ سے کوئی شخص نشے میں آئے گا ، تو وہ اُٹھ کر اپنے چچا زاد کی طرف بڑھے گا اور اس کی پنڈلی پر تلوار مار دے گا ، راوی بیان کرتے ہیں : حاضرین میں بنو عضل سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب موجود تھے ، جن کا نام حارث تھا ، ان کی ٹانگ اسی طرح شراب نوشی کے دوران کاٹ دی گئی تھی ، وہ شاعری کی ایک محفل میں موجود تھے ، انہوں نے کوئی شعر سنایا ، تو گھر کے افراد میں سے ایک صاحب اُٹھے اور انہوں نے ان کی ٹانگ پر تلوار مار کر اسے کاٹ دیا ، تو حارث نامی صاحب نے کہا: جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی تو میں نے اپنا کپڑا لٹکا کر اپنی پنڈلی پر موجود ضرب کو ڈھانپ لیا ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کو ظاہر کر دیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13624
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (432/3)»