مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ الزِّيَارَةِ وَإِكْرَامِ الزَّائِرِينَ باب: کسی سے ملنے کے لئے جانا ، اور ملنے کے لئے آنے والوں کا احترام کرنا
حدیث نمبر: 13601
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى بَنِي وَاقِفٍ نَزُورُ الْبَصِيرَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُوسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، إِلَّا أَنَّ الْبَزَّارَ قَالَ : لَمْ يَرْوِهِ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ إِلَّا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَعْفِيُّ ، وَأَحْسَبُهُ أَخْطَأَ فِيهِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ ہمارے ساتھ بنو واقف کی طرف چلو ! تاکہ ہم بصیر سے مل آئیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف موسیٰ بن عبدالرحمان مسروقی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہیں ، تاہم امام بزار نے یہ بات بیان کی ہے : کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث صرف حسین بن علی جعفی نے نقل کی ہے ، اور اس کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ اُس نے اس میں غلطی کی ہے ۔