حدیث نمبر: 13602
وَعَنْ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لِأَصْحَابِهِ حِينَ قَدِمُوا عَلَيْهِ : هَلْ تَجَالَسُونَ ؟ قَالُوا : لَا نَتْرُكُ ذَاكَ . قَالَ : فَهَلْ تَزَاوَرُونَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنَّ الرَّجُلَ مِنَّا لَيَفْقِدُ أَخَاهُ فَيَمْشِي عَلَى رِجْلَيْهِ إِلَى آخِرِ الْكُوفَةِ حَتَّى يَلْقَاهُ . قَالَ : إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ مَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین

عوف بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد جب ان کے پاس آئے ، تو انہوں نے ان سے دریافت کیا : کیا تم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے ہو ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : ہم اس کو ترک نہیں کرتے ہیں ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ ایک دوسرے سے ملنے کے لیے جاتے ہو ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اے ابوعبدالرحمن ! بعض اوقات ہم میں سے کوئی ایک شخص اپنے بھائی کو غیر موجود پاتا ہے ، تو پیدل چل کر کوفہ کے آخری کنارے تک جا کر اُس سے ملاقات کرتا ہے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ جب تک ایسا کرتے رہو گے ، تم مسلسل بھلائی پر رہو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند منقطع ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13602
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8979)»