مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ الزِّيَارَةِ وَإِكْرَامِ الزَّائِرِينَ باب: کسی سے ملنے کے لئے جانا ، اور ملنے کے لئے آنے والوں کا احترام کرنا
حدیث نمبر: 13600
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى بَنِي وَاقِفٍ نَزُورُ الْبَصِيرَ " . رَجُلٌ كَانَ مَكْفُوفَ الْبَصَرِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ ہمارے ساتھ بنو واقف کی طرف چلو ! تاکہ ہم بصیر کو دیکھ آئیں ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : وہ ایک ایسے شخص تھے ، جس کی بینائی ختم ہو چکی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، اور امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن مستمر عروقی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔