مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ الزِّيَارَةِ وَإِكْرَامِ الزَّائِرِينَ باب: کسی سے ملنے کے لئے جانا ، اور ملنے کے لئے آنے والوں کا احترام کرنا
حدیث نمبر: 13599
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : دَخَلَ سَلْمَانُ عَلَى عُمَرَ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى وِسَادَةٍ ، قَالَ : فَأَلْقَاهَا إِلَيَّ ثُمَّ قَالَ : " يَا سَلْمَانُ ، مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْخُلُ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ فَيُلْقِي إِلَيْهِ وِسَادَةً إِكْرَامًا لَهُ ، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، جو تکیے پر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے وہ تکیہ میری طرف آگے کر دیا اور پھر فرمایا : ” اے سلمان ! جس مسلمان شخص کے پاس اس کا مسلمان بھائی آئے ، اور وہ اس کی عزت افزائی کے طور پر اس کے لئے تکیہ رکھ دے ، تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کی مغفرت کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمران بن خالد خزاعی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔