مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ الزِّيَارَةِ وَإِكْرَامِ الزَّائِرِينَ باب: کسی سے ملنے کے لئے جانا ، اور ملنے کے لئے آنے والوں کا احترام کرنا
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : دَخَلَ عُمَرُ عَلَى سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ فَأَلْقَى لَهُ وِسَادَةً فَقَالَ : مَا هَذَا يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ؟ فَقَالَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْخُلُ عَلَيْهِ أَخُوهُ الْمُسْلِمُ فَيُلْقِي لَهُ وِسَادَةً إِكْرَامًا وَإِعْظَامًا ، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تو انہوں نے ان کے لئے تکیہ رکھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اے ابوعبد اللہ ! یہ کس وجہ سے ہے ؟ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس مسلمان شخص کے پاس اس کا مسلمان بھائی آئے ، اور وہ شخص اُس کے احترام اور تعظیم کے طور پر اس کے لئے تکیہ رکھے ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی مغفرت کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمران بن خالد خزاعی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔