مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِلْفِ باب: حلیف بننے کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13588
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ ،أَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمْ يَزِدْ فِي الْإِسْلَامِ إِلَّا شِدَّةً " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَدُّهُ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسلام میں حلیف ہونے کا معاہدہ نہیں ہو گا ، حلیف ہونے کا جو بھی معاہدہ زمانہ جاہلیت میں ہوا تھا ، اسلام اس کی مضبوطی میں اضافہ ہی کرے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ابن ابوملیکہ کی دادی ہے ، اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔