مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِلْفِ باب: حلیف بننے کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13589
وَعَنْ فُرَاتِ بْنِ حِبَّانَ الْعِجْلِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ حِلْفِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَعَلَّكَ تَسْأَلُ عَنْ حَلِيفِ لَخْمٍ وَتَمِيمٍ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَزِيدُهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً " . وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا فرات بن حیان عجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زمانہ جاہلیت کے حلیف ہونے کے معاہدے کے بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شاید تم مجھ سے لخم اور تمیم کے حلیف ہونے کے بارے میں دریافت کرنا چاہتے ہو ، انہوں نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسلام اُس کی مضبوطی میں اضافہ ہی کرے گا ۔ “ اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔