مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِلْفِ باب: حلیف بننے کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13586
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ ، وَمَا كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً أَوْ حِدَّةً " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسلام میں حلیف ہونے کا کوئی معاہدہ نہیں ہو گا ، اور جو معاہدہ زمانہ جاہلیت میں ہوا تھا ، اسلام اس کی مضبوطی اور شدت میں اضافہ ہی کرے گا “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔