مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِلْفِ باب: حلیف بننے کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ قَالَ : دَفَعَ إِلَيَّ أَبِي ، بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ ، هَذَا الْكِتَابَ فَقَالَ : يَا بُنَيَّ ، هَذَا كِتَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَوْصُوا بِهِ ، وَلَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ مَا دَامَ فِيكُمْ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ وَبِشْرٍ سَرَوَاتِ بَنِي عَمْرٍو فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكُمُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، وَأَمَّا بَعْدُ : فَإِنِّي لَمْ أَثِمَّ بَالَكُمْ وَلَمْ أَضَعْ فِي جَنْبِكُمْ ، وَإِنَّ أَكْرَمَ تِهَامَةَ عَلَيَّ أَنْتُمْ وَأَقْرَبَهُ مِنِّي رَحِمًا وَمَنْ تَبِعَكُمْ مِنَ الْمُطَّلِبِينَ ، وَإِنِّي أَخَذْتُ لِمَنْ هَاجَرَ مِنْكُمْ مِثْلَ مَا أَخَذْتُ لِنَفْسِي ، وَلَوْ هَاجَرَ بِأَرْضِهِ غَيْرُ سَاكِنِ مَكَّةَ إِلَّا مُعْتَمِرًا أَوْ حَاجًّا ، وَإِنِّي لَمْ أَضَعْ فِيكُمْ أَوْ سَلِمْتُ ، وَإِنَّكُمْ غَيْرُ خَائِفِينَ مِنْ قِبَلِي وَلَا مُحَصَّرَيْنِ . أَمَّا بَعْدُ : فَإِنَّهُ قَدْ أَسْلَمَ عَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ وَابْنَا عَوْنٍ ، وَبَايَعَا عَلَى مَنْ تَبِعَهُمْ مِنْ عِكْرِمَةَ ، وَأَخَذَ لِمَنْ تَبِعَهُ مِنْكُمْ مِثْلَ مَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ، وَإِنَّ بَعْضَنَا مِنْ بَعْضٍ أَبَدًا فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ " . قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ : وَحَدَّثَنِي أَبِي قَالَ : سَمِعْتُ أَشْيَاخَنَا يَقُولُونَ : هُوَ خَطُّ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سلمہ بن بدیل بن ورقاء بیان کرتے ہیں : میرے والد بدیل بن ورقاء نے یہ مکتوب میرے حوالے کیا ، انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب ہے ، تو تم اس کے ذریعے تلقین کو قبول کرو ، اور جب تک یہ تمہارے درمیان رہے گا ، تم مسلسل بھلائی پر گامزن رہو گے : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بدیل بن ورقاء اور بنو عمرو کے رؤساء کے نام مکتوب ہے ، میں تمہارے سامنے اُس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، امابعد ! میں تمہارے معاملے کو گناہ قرار نہیں دیتا ، اور نہ ہی تمہارے پہلو میں رکھتا ہوں ، اہل تہامہ میں میرے نزدیک سب سے زیادہ معزز تم ہو ، اور رشتہ داری کے اعتبار سے میرے سب سے زیادہ قریبی ہو ، اور وہ لوگ ہیں جو مطیبین سے تعلق رکھتے ہیں ، اور تمہاری پیروی کرتے ہیں ، تم میں سے جو شخص ہجرت کر لیتا ہے ، میں نے اس کے لئے وہی چیز لی ہے ، جو میں نے اپنی ذات کے لیے لی ہے ، خواہ اُس شخص نے اپنی سرزمین سے ہجرت کی ہو ، اور مکہ میں رہائش اختیار نہ کی ہو ، البتہ عمرہ کرنے والے اور حج کرنے والے کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے تمہارے معاملے کو ضائع نہیں کیا ، یا سپرد نہیں کیا ، تم لوگ میری طرف سے خوفزدہ نہ ہونا ، یا محصور نہیں ہونا ، امابعد ! علقمہ بن علاثہ اور عون کے دونوں بیٹوں نے اسلام قبول کر لیا ہے ، ان دونوں نے بیعت کر لی ہے ، اور ہجرت کی ہے ، ان لوگوں کی طرف سے جو عکرمہ میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں ، اور اس نے تم میں سے اپنے پیروکاروں کے لئے وہ چیز لی ہے ، جو اپنی ذات کے لیے لی ہے ، ہم حل میں اور حرم میں ، ہمیشہ ایک دوسرے کا حصہ رہیں گے ۔ “ ابومحمد کہتے ہیں : میرے والد نے مجھے
یہ روایت بیان کی ہے : میں نے اپنے مشائخ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : یہ مکتوب سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کا تحریر کیا ہوا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔