مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِلْفِ باب: حلیف بننے کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَدْخَلَ فِي حِلْفِ يَوْمِ الْحُدَيْبِيَةَ خُزَاعَةَ ، وَكَتَبَ إِلَيْهِمْ وَإِلَى بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ سَرَوَاتِ بَنِي عَمْرٍو : " سَلَامٌ عَلَيْكُمْ ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكُمُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، أَمَّا بَعْدُ : فَإِنِّي لَمْ أَثِمَّ بَالَكُمْ وَلَمْ أَضَعْ فِي جَنْبِكُمْ ، وَإِنَّ أَكْرَمَ تِهَامَةَ عَلَيَّ لَأَنْتُمْ وَمَنْ تَبِعَكُمْ مِنَ الْمُطَّلِبِينَ ، وَقَدْ أَخَذْتُ لِمَنْ هَاجَرَ مِثْلَ مَا أَخَذْتُ لِنَفْسِي ، وَلَوْ هَاجَرَ بِأَرْضِهِ غَيْرُ سَاكِنِ مَكَّةَ وَإِنَّكُمْ غَيْرُ خَائِفِينَ مِنْ قِبَلِي وَلَا مُخَوَّفِينَ " . هَذَا أَوْ نَحْوُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤بدیل بن ورقاء بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے دن ، حلیف ہونے کے معاہدے میں خزاعہ کو داخل کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں کی طرف ، بدیل بن ورقاء کی طرف ، اور بنو عمرو کے رؤسا کی طرف یہ خط لکھا : ” تم لوگوں پر سلام ہو ! میں تمہارے سامنے اُس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی معبود ہے ، امابعد ! بے شک میں نے تمہارے معاملے کو گناہ قرار نہیں دیا ہے ، اور نہ ہی میں نے تمہارے پہلو میں رکھا ہے ، تہامہ کے رہنے والوں میں ، میرے نزدیک سب سے زیادہ معزز تم لوگ ہو ، اور وہ لوگ ہیں ، جو تمہاری پیروی کریں ، جن کا تعلق مطیبین سے ہو ، میں نے ہجرت کرنے والے کے لئے وہی چیز لی ہے ، جو میں نے اپنی ذات کے لیے لی ہے ، خواہ وہ شخص مکہ میں رہائش اختیار کیے بغیر اپنی زمین سے ہجرت کرتا ہے ، تو تم لوگ میری طرف سے خوفزدہ نہ ہونا اور خوف کا شکار نہ کرنا ۔ “ یہ ، یا اس کی مانند کلمات تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔