مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِلْفِ باب: حلیف بننے کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13583
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ وَأَنِّي نَقَضْتُ الْحِلْفَ الَّذِي فِي دَارِ النَّدْوَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَرْزُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے یہ بات اچھی نہیں لگے گی کہ مجھے سرخ اونٹ مل جائیں ، اور میں حلیف ہونے کے اُس معاہدے کو توڑ دوں ، جو ” دارالندوہ “ میں ہوا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مرزوق بن مرزبان ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔