مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِخَاءِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ باب: مسلمانوں کے درمیان بھائی چارہ
حدیث نمبر: 13580
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، وَعَسَلِ بْنِ كَعْبٍ ، أَحَدُ بَنِي زِمَامٍ ، أَنَّ جَدَّهُ مَازِنَ بْنَ خَيْثَمَةَ - يَعْنِي جَدَّ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ - بَعَثَهُمَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ حِينَ نَزَلَ بَيْنَ السَّكُونِ وَالسَّكَاسِكِ وَقَالَ : حَتَّى أَسْلَمَ النَّاسُ وَافِدِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَآخَى بَيْنَ السَّكُونِ وَالسَّكَاسِكِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
عمرو بن قیس اور عسل بن کعب ، جن کا تعلق بنو مازن سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : اُن کے دادا مازن بن خیثمہ اور ہبیل بن کعب ، جن کا تعلق بنو مازن سے ہے ، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اُن دونوں کو بھیجا ، جب انہوں نے سکون اور سکاسک کے درمیان پڑاؤ کیا ہوا تھا ، اور انہوں نے یہ بیان کیا : یہاں تک کہ لوگوں نے اسلام قبول کر لیا اور وہ وفد کی شکل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکون اور سکاسک کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔