حدیث نمبر: 13567
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى فَاطِمَةَ فَقَالَ : يَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَلْ تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا تَطْرِفِينِيهِ ؟ قَالَتْ : يَا جَارِيَةُ ، هَاتِ تِلْكَ الْحَرِيرَةَ ، فَطَلَبَتْهَا فَلَمْ تَجِدْهَا ، فَقَالَتْ : وَيْحَكِ اطْلُبِيهَا فَإِنَّهَا تَعْدِلُ عِنْدِي حَسَنًا وَحُسَيْنًا . فَطَلَبَتْهَا فَإِذَا هِيَ قَدْ قَمَّتْهَا فِي قُمَامَتِهَا ، فَإِذَا فِيهَا : قَالَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْحَيِيَّ الْحَلِيمَ الْمُتَعَفِّفَ ، وَيُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ السَّائِلَ الْمُلْحِفَ ، إِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالْفُحْشَ مِنَ الْبَذَاءِ وَالْبَذَاءُ فِي النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور اس نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول کی صاحبزادی ! کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے پاس کوئی ایسی چیز چھوڑی ہے ، جسے آپ خصوصی چیز قرار دیتی ہوں ؟ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے کنیز ! تم وہ جریدہ لے کر آؤ ! اس کنیز نے اُسے تلاش کیا ، لیکن وہ اسے نہیں ملا ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ، تم اُسے تلاش کرو ! کیونکہ وہ میرے نزدیک حسن اور حسین کے برابر ہے ، اس کنیز نے اسے تلاش کیا ، تو پتہ چلا کہ اس نے جھاڑو دی تھی اور وہ اس کچرے کے درمیان موجود ہے ، اس تحریر میں یہ بات لکھی ہوئی تھی : سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” وہ شخص مومنین میں سے نہیں ہے ، جس کا پڑوسی اُس کے بوائق ( یعنی شر ) سے محفوظ نہ ہو ، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہیے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے اپنے پڑوسی کو اذیت نہیں پہنچانی چاہئے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اُسے بھلائی کی بات کرنی چاہیے ، ورنہ خاموش رہنا چاہیے ، بے شک اللہ تعالیٰ زندہ ، بردبار ، پاکدامن ، مانگنے سے بچنے والے شخص سے محبت کرتا ہے ، اور وہ بدتمیزی کرنے والے بدزبان شخص اور لپٹ کر مانگنے والے شخص کو ناپسند کرتا ہے ، بے شک حیاء ایمان کا حصہ ہے ، اور ایمان جنت میں ہو گا ، اور فحش کلامی ( یا بدزبانی ) برائی کا حصہ ہے ، اور برائی ، جہنم میں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13567
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10442)»