کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: پڑوسی کو اذیت پہنچانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13561
عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ : " مَا تَقُولُونَ فِي الزِّنَا ؟ " قَالُوا : حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَهُوَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ : " لَأَنْ يَزْنِيَ الرَّجُلُ بِعَشْرِ نِسْوَةٍ أَيْسَرَ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَزْنِيَ بِامْرَأَةِ جَارِهِ " . قَالَ : فَقَالَ : " مَا تَقُولُونَ فِي السَّرِقَةِ ؟ " قَالُوا : حَرَّمَهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَهِيَ حَرَامٌ . قَالَ : " لَأَنْ يَسْرِقَ الرَّجُلُ مِنْ عَشَرَةِ أَبْيَاتٍ أَيْسَرَ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَسْرِقَ مِنْ جَارِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے دریافت کیا : زنا کے بارے میں تم لوگوں کی کیا رائے ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ حرام ہے ، جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے ، تو یہ قیامت کے دن تک حرام رہے گا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا : ” آدمی دس عورتوں کے ساتھ زنا کر لے ، یہ اُس کے لیے اس سے زیادہ ہلکا ہو گا کہ وہ اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : چوری کے بارے میں تم لوگوں کی کیا رائے ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اس کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے ، تو یہ حرام ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی دس گھروں میں چوری کر لے ، یہ اُس کے لیے اس سے زیادہ ہلکا ہو گا کہ وہ اپنے پڑوسی کے گھر میں چوری کرے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13561
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (8/6)»
حدیث نمبر: 13562
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فُلَانَةَ ، فَذَكَرَ مِنْ كَثْرَةِ صَلَاتِهَا وَصَدَقَتِهَا وَصِيَامِهَا غَيْرَ أَنَّهَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا . قَالَ : " هِيَ فِي النَّارِ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّ فُلَانَةَ ، فَذَكَرَ مِنْ قِلَّةِ صِيَامِهَا وَصَلَاتِهَا وَأَنَّهَا تَصَدَّقُ بِالْأَثْوَارِ مِنَ الْأَقِطِ ، وَلَا تُؤْذِي بِلِسَانِهَا جِيرَانَهَا . قَالَ : " هِيَ فِي الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں عورت ، راوی بیان کرتے ہیں : اس شخص نے اُس عورت کی نماز ، صدقہ کرنے اور روزہ رکھنے میں کثرت کا ذکر کیا ، اور یہ بتایا : تاہم وہ اپنی زبان کے ذریعے اپنے پڑوسیوں کو اذیت پہنچاتی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ جہنم میں جائے گی ، اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں عورت کا یہ معاملہ ہے ، اس نے یہ بتایا کہ اُس عورت کا روزہ صدقہ کرنا اور نماز کم ہیں ، تاہم وہ پنیر کے ٹکڑے صدقہ کر دیتی ہے ، اور اپنے پڑوسیوں کو اپنی زبان کے ذریعے اذیت نہیں دیتی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ جنت میں جائے گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13562
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1902) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (440/2)»
حدیث نمبر: 13563
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ ، وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ ، وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ " . قَالُوا : وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " جَارٌ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا بَوَائِقُهُ ؟ قَالَ : " شَرُّهُ " . قُلْتُ : لِأَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ کی قسم ! وہ مومن نہیں ہو گا ، اللہ کی قسم ! وہ مومن نہیں ہو گا ، اللہ کی قسم ! وہ مومن نہیں ہو گا ، لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کون ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسا پڑوسی ، جس کا پڑوسی اُس کے بوائق سے محفوظ نہ ہو ، لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! اس کے بوائق سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا شر ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صحیح میں یہ حدیث مذکور ہے : ” وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جس کا پڑوسی اُس کے بوائق ( یعنی شر ) سے محفوظ نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13563
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (7865)»
حدیث نمبر: 13564
وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَيْسَ بِالْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَهُوَ صَدُوقٌ كَثِيرُ الْخَطَأِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” وہ شخص مومن نہیں ہے ، جس کا پڑوسی اُس کے بوائق ( یعنی شر ) سے محفوظ نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عتبہ ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور وہ صدوق ہے ، اور بکثرت غلطیاں کرتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13564
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8250)»
حدیث نمبر: 13565
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا هُوَ بِمُؤْمِنٍ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” وہ شخص مومن نہیں ہے ، جس کا پڑوسی اس کے بوائق ( یعنی شر ) سے محفوظ نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13565
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4252)»
حدیث نمبر: 13566
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي نَزَلْتُ فِي مَحَلَّةِ بَنِي فُلَانٍ وَإِنَّ أَشَدَّهُمْ لِي أَذًى أَقْرَبُهُمْ لِي جِوَارًا . فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعَلِيًّا يَأْتُونَ الْمَسْجِدَ فَيَقُومُونَ عَلَى بَابِهِ فَيَصِيحُونَ : أَلَا إِنَّ أَرْبَعِينَ دَارًا جَارٌ ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ خَافَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: یا رسول اللہ ! میں نے بنو فلاں کے محلے میں رہائش اختیار کی ، اُن لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ تکلیف کا سامنا اُس شخص سے کرنا پڑا ، جو میرا سب سے زیادہ قریبی پڑوسی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ وہ اس محلے کی مسجد میں جائیں ، اور اس کے دروازے پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کریں : ” خبردار ! چالیس گھروں تک پڑوس ہوتا ہے ، اور وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جس کا پڑوسی اس کے بوائق ( یعنی شر ) سے خوفزدہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن سفر ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13566
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (73/19)»
حدیث نمبر: 13567
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى فَاطِمَةَ فَقَالَ : يَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَلْ تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا تَطْرِفِينِيهِ ؟ قَالَتْ : يَا جَارِيَةُ ، هَاتِ تِلْكَ الْحَرِيرَةَ ، فَطَلَبَتْهَا فَلَمْ تَجِدْهَا ، فَقَالَتْ : وَيْحَكِ اطْلُبِيهَا فَإِنَّهَا تَعْدِلُ عِنْدِي حَسَنًا وَحُسَيْنًا . فَطَلَبَتْهَا فَإِذَا هِيَ قَدْ قَمَّتْهَا فِي قُمَامَتِهَا ، فَإِذَا فِيهَا : قَالَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْحَيِيَّ الْحَلِيمَ الْمُتَعَفِّفَ ، وَيُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ السَّائِلَ الْمُلْحِفَ ، إِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالْفُحْشَ مِنَ الْبَذَاءِ وَالْبَذَاءُ فِي النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور اس نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول کی صاحبزادی ! کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے پاس کوئی ایسی چیز چھوڑی ہے ، جسے آپ خصوصی چیز قرار دیتی ہوں ؟ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے کنیز ! تم وہ جریدہ لے کر آؤ ! اس کنیز نے اُسے تلاش کیا ، لیکن وہ اسے نہیں ملا ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ، تم اُسے تلاش کرو ! کیونکہ وہ میرے نزدیک حسن اور حسین کے برابر ہے ، اس کنیز نے اسے تلاش کیا ، تو پتہ چلا کہ اس نے جھاڑو دی تھی اور وہ اس کچرے کے درمیان موجود ہے ، اس تحریر میں یہ بات لکھی ہوئی تھی : سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” وہ شخص مومنین میں سے نہیں ہے ، جس کا پڑوسی اُس کے بوائق ( یعنی شر ) سے محفوظ نہ ہو ، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہیے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے اپنے پڑوسی کو اذیت نہیں پہنچانی چاہئے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اُسے بھلائی کی بات کرنی چاہیے ، ورنہ خاموش رہنا چاہیے ، بے شک اللہ تعالیٰ زندہ ، بردبار ، پاکدامن ، مانگنے سے بچنے والے شخص سے محبت کرتا ہے ، اور وہ بدتمیزی کرنے والے بدزبان شخص اور لپٹ کر مانگنے والے شخص کو ناپسند کرتا ہے ، بے شک حیاء ایمان کا حصہ ہے ، اور ایمان جنت میں ہو گا ، اور فحش کلامی ( یا بدزبانی ) برائی کا حصہ ہے ، اور برائی ، جہنم میں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13567
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10442)»
حدیث نمبر: 13568
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشْكُو جَارَهُ ، قَالَ : " اطْرَحْ مَتَاعَكَ عَلَى الطَّرِيقِ " . فَطَرَحَهُ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَمُرُّونَ عَلَيْهِ وَيَلْعَنُونَهُ ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَقِيتُ مِنَ النَّاسِ ؟ قَالَ : " وَمَا لَقِيتَ مِنْهُمْ ؟ " . قَالَ : يَلْعَنُونِي . قَالَ : " لَعَنَكَ اللَّهُ قَبْلَ النَّاسِ " . فَقَالَ : إِنِّي لَا أَعُودُ . فَجَاءَ الَّذِي شَكَاهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " ارْفَعْ مَتَاعَكَ فَقَدْ كُفِيتَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " ضَعْ مَتَاعَكَ عَلَى الطَّرِيقِ ، أَيْ عَلَى ظَهْرِ الطَّرِيقِ " . فَوَضَعَهُ ، فَكَانَ كُلُّ مَنْ مَرَّ قَالَ : مَا شَأْنُكَ ؟ قَالَ : جَارِي يُؤْذِينِي . فَيَدْعُو عَلَيْهِ ، فَجَاءَ جَارُهُ فَقَالَ : رُدَّ مَتَاعَكَ ، فَلَا أُؤْذِيكَ أَبَدًا . وَفِيهِ أَبُو عُمَرَ الْمَنْبَهِيُّ تَفَرَّدَ عَنْهُ شَرِيكٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوجحیفہ یہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور اس نے اپنے پڑوسی کی شکایت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنا سامان راستے میں رکھ دو ! اس شخص نے سامان رکھ دیا ، لوگ وہاں سے گزرتے اور اس ( کے پڑوسی ) پر لعنت کرتے ( اس شخص کا پڑوسی ) شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے لوگوں کی طرف سے کس صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں اُن کی طرف سے کس صورتحال کا سامنا ہے ؟ اس نے بتایا : وہ مجھ پر لعنت کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تم پر لعنت کی ہے ۔ “ اس ( پڑوسی ) نے عرض کی : میں دوبارہ ایسا نہیں کروں گا ، پھر وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، جس نے اس کی شکایت کی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنا سامان اٹھا لو ! کیونکہ تمہاری کفایت ہو گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : تم اپنا سامان راستے پر رکھ دو ! ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) راستے کی پشت پر رکھ دو ! اس شخص نے اس ( سامان ) کو رکھ دیا ، تو ہر گزرنے والا شخص دریافت کرتا تھا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ وہ شخص جواب دیتا : میرے پڑوسی نے مجھے اذیت پہنچائی ہے ، تو گزرنے والا شخص اس پڑوسی کے خلاف دعا کرتا ، اُس شخص کا پڑوسی آیا اور بولا: تم اپنا سامان واپس لے جاؤ ! میں تمہیں کبھی اذیت نہیں پہنچاؤں گا ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوعمر منبہی ہے ، شریک اس سے روایت نقل کرنے میں منفرد ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13568
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1903)»
حدیث نمبر: 13569
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا قَلِيلَ مِنْ أَذَى الْجَارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پڑوسی کو تھوڑی سی تکلیف بھی نہیں پہنچائی جائے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13569
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (258/23)»
حدیث نمبر: 13570
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنِ اطَّلَعَ مِنْ بَيْتِ جَارِهِ فَنَظَرَ إِلَى عَوْرَةِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ أَوْ شَعْرِ امْرَأَتِهِ أَوْ شَيْءٍ مِنْ جَسَدِهَا ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ النَّارَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَنْبَسَةَ ، وَهُوَ وَضَّاعٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے پڑوسی کے گھر میں جھانک کر دیکھے ، اور اپنے مسلمان بھائی کی پوشیدہ چیز کی طرف نظر کرے ، یا اُس کی بیوی کے بال ، یا اس عورت کے جسم کا کوئی حصہ دیکھے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اُس شخص کو جہنم میں داخل کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عنبسہ ہے اور وہ حدیث ایجاد کرنے والا شخص ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13570
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
حدیث نمبر: 13571
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ فَقَالَ : " لَا يَصْحَبُنَا الْيَوْمَ مَنْ آذَى جَارَهُ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا بُلْتُ فِي أَصْلِ حَائِطِ جَارِي . فَقَالَ : " لَا تَصْحَبْنَا الْيَوْمَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ میں شرکت کے لئے تشریف لے جانے لگے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آج ہمارے ساتھ کوئی ایسا شخص نہ رہے ، جس نے اپنے پڑوسی کو اذیت پہنچائی ہو ، حاضرین میں سے ایک شخص بولا: میں نے اپنے پڑوسی کی دیوار کی بنیاد کے پاس پیشاب کیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم آج ہمارے ساتھ نہ رہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13571
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف