مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَذَى الْجَارِ باب: پڑوسی کو اذیت پہنچانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي نَزَلْتُ فِي مَحَلَّةِ بَنِي فُلَانٍ وَإِنَّ أَشَدَّهُمْ لِي أَذًى أَقْرَبُهُمْ لِي جِوَارًا . فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعَلِيًّا يَأْتُونَ الْمَسْجِدَ فَيَقُومُونَ عَلَى بَابِهِ فَيَصِيحُونَ : أَلَا إِنَّ أَرْبَعِينَ دَارًا جَارٌ ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ خَافَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: یا رسول اللہ ! میں نے بنو فلاں کے محلے میں رہائش اختیار کی ، اُن لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ تکلیف کا سامنا اُس شخص سے کرنا پڑا ، جو میرا سب سے زیادہ قریبی پڑوسی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ وہ اس محلے کی مسجد میں جائیں ، اور اس کے دروازے پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کریں : ” خبردار ! چالیس گھروں تک پڑوس ہوتا ہے ، اور وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جس کا پڑوسی اس کے بوائق ( یعنی شر ) سے خوفزدہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن سفر ہے اور وہ متروک ہے ۔