حدیث نمبر: 13568
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشْكُو جَارَهُ ، قَالَ : " اطْرَحْ مَتَاعَكَ عَلَى الطَّرِيقِ " . فَطَرَحَهُ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَمُرُّونَ عَلَيْهِ وَيَلْعَنُونَهُ ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَقِيتُ مِنَ النَّاسِ ؟ قَالَ : " وَمَا لَقِيتَ مِنْهُمْ ؟ " . قَالَ : يَلْعَنُونِي . قَالَ : " لَعَنَكَ اللَّهُ قَبْلَ النَّاسِ " . فَقَالَ : إِنِّي لَا أَعُودُ . فَجَاءَ الَّذِي شَكَاهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " ارْفَعْ مَتَاعَكَ فَقَدْ كُفِيتَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " ضَعْ مَتَاعَكَ عَلَى الطَّرِيقِ ، أَيْ عَلَى ظَهْرِ الطَّرِيقِ " . فَوَضَعَهُ ، فَكَانَ كُلُّ مَنْ مَرَّ قَالَ : مَا شَأْنُكَ ؟ قَالَ : جَارِي يُؤْذِينِي . فَيَدْعُو عَلَيْهِ ، فَجَاءَ جَارُهُ فَقَالَ : رُدَّ مَتَاعَكَ ، فَلَا أُؤْذِيكَ أَبَدًا . وَفِيهِ أَبُو عُمَرَ الْمَنْبَهِيُّ تَفَرَّدَ عَنْهُ شَرِيكٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوجحیفہ یہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور اس نے اپنے پڑوسی کی شکایت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنا سامان راستے میں رکھ دو ! اس شخص نے سامان رکھ دیا ، لوگ وہاں سے گزرتے اور اس ( کے پڑوسی ) پر لعنت کرتے ( اس شخص کا پڑوسی ) شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے لوگوں کی طرف سے کس صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں اُن کی طرف سے کس صورتحال کا سامنا ہے ؟ اس نے بتایا : وہ مجھ پر لعنت کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تم پر لعنت کی ہے ۔ “ اس ( پڑوسی ) نے عرض کی : میں دوبارہ ایسا نہیں کروں گا ، پھر وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، جس نے اس کی شکایت کی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنا سامان اٹھا لو ! کیونکہ تمہاری کفایت ہو گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : تم اپنا سامان راستے پر رکھ دو ! ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) راستے کی پشت پر رکھ دو ! اس شخص نے اس ( سامان ) کو رکھ دیا ، تو ہر گزرنے والا شخص دریافت کرتا تھا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ وہ شخص جواب دیتا : میرے پڑوسی نے مجھے اذیت پہنچائی ہے ، تو گزرنے والا شخص اس پڑوسی کے خلاف دعا کرتا ، اُس شخص کا پڑوسی آیا اور بولا: تم اپنا سامان واپس لے جاؤ ! میں تمہیں کبھی اذیت نہیں پہنچاؤں گا ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوعمر منبہی ہے ، شریک اس سے روایت نقل کرنے میں منفرد ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13568
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1903)»