مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَذَى الْجَارِ باب: پڑوسی کو اذیت پہنچانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ : " مَا تَقُولُونَ فِي الزِّنَا ؟ " قَالُوا : حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَهُوَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ : " لَأَنْ يَزْنِيَ الرَّجُلُ بِعَشْرِ نِسْوَةٍ أَيْسَرَ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَزْنِيَ بِامْرَأَةِ جَارِهِ " . قَالَ : فَقَالَ : " مَا تَقُولُونَ فِي السَّرِقَةِ ؟ " قَالُوا : حَرَّمَهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَهِيَ حَرَامٌ . قَالَ : " لَأَنْ يَسْرِقَ الرَّجُلُ مِنْ عَشَرَةِ أَبْيَاتٍ أَيْسَرَ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَسْرِقَ مِنْ جَارِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے دریافت کیا : زنا کے بارے میں تم لوگوں کی کیا رائے ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ حرام ہے ، جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے ، تو یہ قیامت کے دن تک حرام رہے گا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا : ” آدمی دس عورتوں کے ساتھ زنا کر لے ، یہ اُس کے لیے اس سے زیادہ ہلکا ہو گا کہ وہ اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : چوری کے بارے میں تم لوگوں کی کیا رائے ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اس کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے ، تو یہ حرام ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی دس گھروں میں چوری کر لے ، یہ اُس کے لیے اس سے زیادہ ہلکا ہو گا کہ وہ اپنے پڑوسی کے گھر میں چوری کرے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔