حدیث نمبر: 13539
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ : مَرَرْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الصَّفَا وَاضِعًا خَدَّهُ عَلَى رَجُلٍ فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ نَادَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا مُحَمَّدُ بْنَ مَسْلَمَةَ ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تُسَلِّمَ ؟ " . فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْتُكَ فَعَلْتَ بِهَذَا الرَّجُلِ شَيْئًا لَمْ تَفْعَلْهُ بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَكَ عَنْ حَدِيثِكَ ، فَمَنْ كَانَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ : " كَانَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ " . قَالَ : فَمَا قَالَ ؟ قَالَ : " مَا زَالَ يُوصِينِي بِالْجَارِ ، حَتَّى كُنْتُ أَنْتَظِرُ أَنْ يَأْمُرَنِي بِتَوْرِيثِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَيَّاشُ بْنُ مُوسَى السَّعْدِيُّ ، وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ عَيَّاشُ بْنَ مُؤْنِسٍ ، وَرَوَى عَنْهُ اثْنَانِ ، فَإِنْ كَانَ هَذَا ابْنُ مُؤْنِسٍ فَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَإِلَّا فَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں گزر رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت صفا پہاڑی پر موجود تھے ، آپ نے اپنا رخسار مبارک ایک صاحب پر رکھا ہوا تھا ( یعنی اُن کے بالکل قریب ہو کر اُن کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ) ذرا سی دیر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلند آواز میں مخاطب کر کے فرمایا : اے محمد بن مسلمہ ! تم نے سلام کیوں نہیں کیا ؟ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اُن صاحب کے ساتھ ایسا کام کر رہے تھے ، جو آپ نے لوگوں میں سے کسی کے ساتھ نہیں کیا ، تو میں نے آپ کی گفتگو کو درمیان میں منقطع کرنا مناسب نہیں سمجھا ، یا رسول اللہ ! وہ صاحب کون تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جبرائیل تھے ، سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کیا کہہ رہے تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ مجھے مسلسل پڑوسی کے بارے میں تلقین کر رہے تھے ، یہاں تک کہ میں اس بات کا منتظر ہو گیا کہ وہ مجھے اُسے وارث قرار دینے کے بارے میں بھی کہیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن موسیٰ سعدی ہے ، ابن ابوحاتم نے عباد بن مؤنس کا ذکر کیا ہے ، اس سے دو افراد نے روایات نقل کی ہیں ، اگر تو یہ ابن مؤنس ہے ، تو پھر اس روایت کے رجال ثقہ ہوں گے ، ورنہ میں اُس سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13539
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (234/19)»