مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ حَقِّ الْجَارِ وَالْوَصِيَّةِ بِالْجَارِ باب: پڑوسی کا حق اور پڑوسی کے بارے میں وصیت ( یعنی تلقین )
وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ أَهْلِي أُرِيدُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِذَا بِهِ قَائِمٌ ، وَإِذَا رَجُلٌ مُقْبِلٌ عَلَيْهِ ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُمَا حَاجَةً فَجَلَسْتُ ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَهُ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ قَامَ بِكَ هَذَا الرَّجُلُ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَكَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ ؟ قَالَ : " أَتَدْرِي مَنْ هَذَا ؟ " . قُلْتُ : لَا . قَالَ : " جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَازَالَ يُوصِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَلَّمْتَ عَلَيْهِ لَرَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لئے اپنے اہل خانہ کے ساتھ نکلا ، آپ ایک جگہ کھڑے ہوئے تھے ، اور ایک شخص آپ کے سامنے کھڑا ہوا تھا ، مجھے یہ گمان ہوا کہ شاید انہیں کوئی ضروری کام ہے ، میں بیٹھ گیا ، اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر کھڑے رہے کہ قیام کی طوالت کی وجہ سے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں الجھن ہونے لگی ، جب دوسرا شخص چلا گیا ، تو میں اُٹھ کر آپ کے پاس آیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اُس شخص نے آپ کو اتنی دیر تک کھڑے رکھا کہ آپ کے طویل قیام کی وجہ سے مجھے الجھن ہونے لگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم جانتے ہو وہ کون تھا ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جبرائیل تھا ، اور وہ پڑوسی کے بارے میں مسلسل مجھے تلقین کرتا رہا ، یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ وہ اسے وارث قرار دیدے گا ، اگر تم اُسے سلام کرتے ، تو اس نے تمہیں سلام کا جواب دینا تھا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔