کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: پڑوسی کا حق اور پڑوسی کے بارے میں وصیت ( یعنی تلقین )
حدیث نمبر: 13535
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُوصِي بِالْجَارِ ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَصَرَّحَ بَقِيَّةُ بِالتَّحْدِيثِ ، فَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑوسی کے بارے میں تلقین کرتے ہوئے سنا ، یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُسے وارث قرار دے دیں گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس میں بقیہ نامی راوی نے تحدیث کی صراحت کی ہے ، اور یہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13535
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حدیث
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7630) اخرجه احمد فى المسند (267/5)»
حدیث نمبر: 13536
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجِيرَانُ ثَلَاثَةٌ : جَارٌ لَهُ حَقٌّ وَاحِدٌ وَهُوَ أَدْنَى الْجِيرَانِ ، وَجَارٌ لَهُ حَقَّانِ ، وَجَارٌ لَهُ ثَلَاثَةُ حُقُوقٍ ، فَأَمَّا الَّذِي لَهُ حَقٌّ وَاحِدٌ فَجَارٌ مُشْرِكٌ لَا رَحِمَ لَهُ ، لَهُ حَقُّ الْجِوَارِ ، وَأَمَّا الَّذِي لَهُ الْحَقَّانِ فَجَارٌ مُسْلِمٌ لَهُ حَقُّ الْإِسْلَامِ وَحَقُّ الْجِوَارِ ، وَأَمَّا الَّذِي لَهُ ثَلَاثَةُ حُقُوقٍ : فَجَارٌ مُسْلِمٌ ذُو رَحِمٍ ، لَهُ حَقُّ الْإِسْلَامِ وَحَقُّ الْجِوَارِ وَحَقُّ الرَّحِمِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيِّ ، وَهُوَ وَضَّاعٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پڑوسی تین قسم کے ہوتے ہیں ، وہ پڑوی ، جس کا ایک حق ہوتا ہے ، اور یہ پڑوسیوں میں سب سے زیادہ کم تر ( حق والا ) ہوتا ہے ، ایک وہ پڑوسی جس کے دو حق ہوتے ہیں ، اور ایک وہ پڑوسی ، جس کے تین حقوق ہوتے ہیں ، جہاں تک اس کا تعلق ہے ، جس کا ایک حق ہوتا ہے ، تو وہ ایسا مشرک پڑوسی ہے ، جس کے ساتھ کوئی رشتہ داری نہ ہو ، تو اس کے لئے پڑوسی کا حق ہوتا ہے ، جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے ، جس کے دو حق ہوتے ہیں ، تو وہ مسلم پڑوسی ہے ، اُسے اسلام کا حق حاصل ہوتا ہے ، اور پڑوس کا حق حاصل ہوتا ہے ، جہاں تک اس کا تعلق ہے ، جسے تین حقوق حاصل ہوتے ہیں ، تو وہ ایسا مسلمان پڑوسی ہے ، جو رشتہ دار بھی ہو ، اُسے اسلام کا حق حاصل ہوتا ہے ، پڑوس کا حق حاصل ہوتا ہے ، اور رشتہ داری کا حق حاصل ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد حارثی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ حدیث ایجاد کرنے والا شخص ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13536
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
حدیث نمبر: 13537
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلْجَارِ حَقٌّ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پڑوسی کو حق حاصل ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13537
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13538
وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ أَهْلِي أُرِيدُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِذَا بِهِ قَائِمٌ ، وَإِذَا رَجُلٌ مُقْبِلٌ عَلَيْهِ ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُمَا حَاجَةً فَجَلَسْتُ ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَهُ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ قَامَ بِكَ هَذَا الرَّجُلُ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَكَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ ؟ قَالَ : " أَتَدْرِي مَنْ هَذَا ؟ " . قُلْتُ : لَا . قَالَ : " جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَازَالَ يُوصِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَلَّمْتَ عَلَيْهِ لَرَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لئے اپنے اہل خانہ کے ساتھ نکلا ، آپ ایک جگہ کھڑے ہوئے تھے ، اور ایک شخص آپ کے سامنے کھڑا ہوا تھا ، مجھے یہ گمان ہوا کہ شاید انہیں کوئی ضروری کام ہے ، میں بیٹھ گیا ، اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر کھڑے رہے کہ قیام کی طوالت کی وجہ سے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں الجھن ہونے لگی ، جب دوسرا شخص چلا گیا ، تو میں اُٹھ کر آپ کے پاس آیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اُس شخص نے آپ کو اتنی دیر تک کھڑے رکھا کہ آپ کے طویل قیام کی وجہ سے مجھے الجھن ہونے لگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم جانتے ہو وہ کون تھا ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جبرائیل تھا ، اور وہ پڑوسی کے بارے میں مسلسل مجھے تلقین کرتا رہا ، یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ وہ اسے وارث قرار دیدے گا ، اگر تم اُسے سلام کرتے ، تو اس نے تمہیں سلام کا جواب دینا تھا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13538
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (32/5)»
حدیث نمبر: 13539
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ : مَرَرْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الصَّفَا وَاضِعًا خَدَّهُ عَلَى رَجُلٍ فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ نَادَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا مُحَمَّدُ بْنَ مَسْلَمَةَ ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تُسَلِّمَ ؟ " . فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْتُكَ فَعَلْتَ بِهَذَا الرَّجُلِ شَيْئًا لَمْ تَفْعَلْهُ بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَكَ عَنْ حَدِيثِكَ ، فَمَنْ كَانَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ : " كَانَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ " . قَالَ : فَمَا قَالَ ؟ قَالَ : " مَا زَالَ يُوصِينِي بِالْجَارِ ، حَتَّى كُنْتُ أَنْتَظِرُ أَنْ يَأْمُرَنِي بِتَوْرِيثِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَيَّاشُ بْنُ مُوسَى السَّعْدِيُّ ، وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ عَيَّاشُ بْنَ مُؤْنِسٍ ، وَرَوَى عَنْهُ اثْنَانِ ، فَإِنْ كَانَ هَذَا ابْنُ مُؤْنِسٍ فَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَإِلَّا فَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں گزر رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت صفا پہاڑی پر موجود تھے ، آپ نے اپنا رخسار مبارک ایک صاحب پر رکھا ہوا تھا ( یعنی اُن کے بالکل قریب ہو کر اُن کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ) ذرا سی دیر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلند آواز میں مخاطب کر کے فرمایا : اے محمد بن مسلمہ ! تم نے سلام کیوں نہیں کیا ؟ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اُن صاحب کے ساتھ ایسا کام کر رہے تھے ، جو آپ نے لوگوں میں سے کسی کے ساتھ نہیں کیا ، تو میں نے آپ کی گفتگو کو درمیان میں منقطع کرنا مناسب نہیں سمجھا ، یا رسول اللہ ! وہ صاحب کون تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جبرائیل تھے ، سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کیا کہہ رہے تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ مجھے مسلسل پڑوسی کے بارے میں تلقین کر رہے تھے ، یہاں تک کہ میں اس بات کا منتظر ہو گیا کہ وہ مجھے اُسے وارث قرار دینے کے بارے میں بھی کہیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن موسیٰ سعدی ہے ، ابن ابوحاتم نے عباد بن مؤنس کا ذکر کیا ہے ، اس سے دو افراد نے روایات نقل کی ہیں ، اگر تو یہ ابن مؤنس ہے ، تو پھر اس روایت کے رجال ثقہ ہوں گے ، ورنہ میں اُس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13539
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (234/19)»
حدیث نمبر: 13540
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجِبْرِيلُ يُصَلِّيَانِ حَيْثُ يُصَلَّى عَلَى الْجَنَائِزِ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي رَأَيْتُهُ مَعَكَ ؟ قَالَ : " وَهَلْ رَأَيْتَهُ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتَ خَيْرًا كَثِيرًا ، هَذَا جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَازَالَ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ مُبَشِّرٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا جبرائیل علیہ السلام اُس وقت اُس جگہ پر نماز ادا کر رہے تھے ، جہاں نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے ، اس شخص نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! یہ شخص کون ہے ؟ جسے میں آپ کے ساتھ دیکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اسے دیکھا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے بہت زیادہ بھلائی دیکھ لی ہے ، وہ جبرائیل تھے ، جو مسلسل مجھے پڑوسی کے بارے میں تلقین کر رہے تھے ، یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ وہ اُسے وارث قرار دیدیں گے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مبشر ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13540
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1897)»
حدیث نمبر: 13541
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ فَرَاهِيجَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جبرائیل مجھے مسلسل پڑوسی کے بارے میں تلقین کرتے رہے ، یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ وہ اُس کو وارث قرار دیدیں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن فراہیچ ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13541
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1899) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (7514)»
حدیث نمبر: 13542
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جبرائیل مجھے مسلسل پڑوسی کے بارے میں تلقین کرتے رہے ، یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ وہ اُس کو وارث قرار دیدیں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ثابت بن اسلم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13542
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1899)»
حدیث نمبر: 13543
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَقَدْ أَوْصَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَيُوَرِّثُهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جبرائیل نے مجھے پڑوسی کے بارے میں تلقین کی ، یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ وہ اُسے وارث قرار دیدیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مطلب بن عبداللہ بن حنطب ہے ، وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13543
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4914)»
حدیث نمبر: 13544
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْجَدْعَاءِ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ يَقُولُ : " أُوصِيكُمْ بِالْجَارِ " . حَتَّى أَكْثَرَ ، فَقُلْتُ : إِنَّهُ يُوَرِّثُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا : حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی ” جدعاء “ پر سوار تھے اور یہ ارشاد فرما رہے تھے : ” میں تمہیں پڑوسی کے بارے میں تلقین کرتا ہوں ۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اتنی زیادہ مرتبہ ارشاد فرمائی کہ میں نے یہ سوچا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُسے وارث قرار دیدیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13544
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7523)»
حدیث نمبر: 13545
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا حَقُّ جَارِي عَلَيَّ؟ ؟ قَالَ : " إِنْ مَرِضَ عُدْتَهُ ، وَإِنْ مَاتَ شَيَّعْتَهُ ، وَإِنِ اسْتَقْرَضَكَ أَقْرَضْتَهُ ، وَإِنْ أَعْوَزَ سَتَرْتَهُ ، وَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ هَنَّأْتَهُ ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ عَزَّيْتَهُ ، وَلَا تَرْفَعْ بِنَاءَكَ فَوْقَ بِنَائِهِ فَتَسُدَّ عَلَيْهِ الرِّيحَ ، وَلَا تُؤْذِهِ بِرِيحِ قِدْرِكَ إِلَّا أَنْ تَغْرِفَ لَهُ مِنْهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حیده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پڑوسی کا مجھ پر کیا حق ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر وہ بیمار ہو جائے ، تو تم اُس کی عیادت کرو ، اگر وہ انتقال کر جائے تو تم جنازے کے ساتھ جاؤ ، اگر وہ تم سے قرض مانگے ، تو تم اُسے قرض دو ، اگر اس کی حالت خراب ہو ، تو تم اُس کی پردہ پوشی کرو ، اگر اسے کوئی بھلائی نصیب ہو ، تو تم اُسے مبارکباد دو ، اگر اسے کوئی مصیبت لاحق ہو ، تو تم اس سے تعزیت کرو ، تم اپنی تعمیر کو اس کی تعمیر سے بلند کر کے اس کی ہوا کو بند نہ کر دو ، اور تم اپنی ہنڈیا کی بو کے ذریعے اسے اذیت نہ پہنچاؤ ، البتہ اگر تم اپنے سالن ( یا اس ہنڈیا ) میں سے کچھ اُسے دے دو ، تو حکم مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13545
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (419/9)»
حدیث نمبر: 13546
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا طَبَخَ أَحَدُكُمْ قِدْرًا فَلْيُكْثِرْ مَرَقَهَا ، ثُمَّ لِيُنَاوِلْ جَارَهُ مِنْهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَائِدُ الْأَعْمَشِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص ہنڈیا پکائے ، تو اس میں شوربہ زیادہ کر لے اور پھر اس میں سے کچھ اپنے پڑوسی کو بھی دیدے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن سعید ہے ، جو اعمش کو ساتھ لے کر چلتا تھا ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13546
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1901) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (277/3)»
حدیث نمبر: 13547
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : كُنْتُ مَرَّةً فِي أَرْضٍ قَطَعَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَبِي سَلَمَةَ وَالزُّبَيْرِ مِنْ أَرْضِ النَّضِيرِ ، فَخَرَجَ الزُّبَيْرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَنَا جَارٌ مِنَ الْيَهُودِ ، فَذَبَحَ شَاةً فَطُبِخَتْ ، فَوَجَدْتُ رِيحَهَا فَدَخَلَنِي مِنْ رِيحِ اللَّحْمِ مَا لَمْ يَدْخُلْنِي مِنْ شَيْءٍ قَطُّ ، وَأَنَا حَامِلٌ بِابْنَةٍ لِي تُدْعَى خَدِيجَةَ ، فَلَمْ أَصْبِرْ ، فَانْطَلَقْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقْتَبِسُ مِنْهَا نَارًا لَعَلَّهَا تُطْعِمُنِي ، وَمَا بِي مِنْ حَاجَةٍ إِلَى النَّارِ ، فَلَمَّا شَمَمْتُ رِيحَهُ وَرَأَيْتُهُ ازْدَدْتُ شَرَهًا ، فَأَطْفَأْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ الثَّانِيَةَ أَقْتَبِسُ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ الثَّالِثَةَ ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ قَعَدْتُ أَبْكِي وَأَدْعُو اللَّهَ ، فَجَاءَ زَوْجُ الْيَهُودِيَّةِ فَقَالَ : أَدَخَلَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ ؟ قَالَتْ :لَا إِلَّا الْعَرَبِيَّةُ دَخَلَتْ تَقْتَبِسُ نَارًا . قَالَ : فَلَا آكُلُ مِنْهَا أَبَدًا أَوْ تُرْسِلِي إِلَيْهَا مِنْهَا . فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ بِقُدْحَةٍ ، وَلَمْ يَكُنْ فِي الْأَرْضِ شَيْءٌ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْ تِلْكَ الْأَكْلَةِ . قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ : الْقُدْحَةُ : الْغَرْفَةُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیده اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ میں ایک ایسی جگہ پر موجود تھی ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو عطا کی تھی ، وہ نضیر قبیلے کی زمین تھی ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے ہوئے تھے ، ہمارا ایک یہودی پڑوسی تھا ، اس نے بکری ذبح کی اور اس کا گوشت پکایا ، مجھے اس کی خوشبو محسوس ہوئی ، تو گوشت کی بو کی وجہ سے میری وہ حالت ہو گئی ، جو اور کسی چیز کی وجہ سے نہیں ہوئی تھی ، میں اس وقت اپنی اس بیٹی کے حوالے سے حاملہ تھی ، جس کا نام خدیجہ ہے ، مجھ سے صبر نہیں ہوا ، میں گی اور اس شخص کی بیوی سے میں نے آگ مانگی ، میرا مقصد یہ تھا کہ وہ مجھے کچھ کھانے کے لیے دیدے گی ، مجھے آگ کی ضرورت نہیں تھی ، جب میں نے گوشت کی بو دوبارہ سونگھی اور اسے دیکھا ، تو میری حالت اور زیادہ خراب ہو گئی ، میں نے اس آگ کو بجھایا اور دوسری مرتبہ اس سے آگ لینے کے لئے گئی ، چند مرتبہ ایسا ہوا ، جب میں نے یہ صورت حال دیکھی ، تو میں بیٹھ کر رونے لگی ، اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے لگی ، جب اس عورت کا شوہر گھر آیا ، تو اس نے کہا: کیا تمہارے ہاں کوئی آیا تھا ؟ اس عورت نے جواب دیا : جی نہیں ! البتہ ایک عربی عورت آئی تھی ، جو آگ لینے کے لئے آئی تھی ، تو اس شخص نے کہا: میں اس گوشت کو اُس وقت تک نہیں کھاؤں گا ، جب تک تم اس میں سے کچھ اُس عورت کو نہیں بھجواؤ گی ، تو اس عورت نے مجھے ایک پیالا بھیجا ، اُس وقت میرے نزدیک روئے زمین کی کوئی چیز اس کھانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں تھی ۔ ابن بکیر بیان کرتے ہیں : لفظ قدحہ کا مطلب سالن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13547
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (103/24)»