مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ حَقِّ الْجَارِ وَالْوَصِيَّةِ بِالْجَارِ باب: پڑوسی کا حق اور پڑوسی کے بارے میں وصیت ( یعنی تلقین )
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجِبْرِيلُ يُصَلِّيَانِ حَيْثُ يُصَلَّى عَلَى الْجَنَائِزِ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي رَأَيْتُهُ مَعَكَ ؟ قَالَ : " وَهَلْ رَأَيْتَهُ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتَ خَيْرًا كَثِيرًا ، هَذَا جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَازَالَ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ مُبَشِّرٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا جبرائیل علیہ السلام اُس وقت اُس جگہ پر نماز ادا کر رہے تھے ، جہاں نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے ، اس شخص نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! یہ شخص کون ہے ؟ جسے میں آپ کے ساتھ دیکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اسے دیکھا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے بہت زیادہ بھلائی دیکھ لی ہے ، وہ جبرائیل تھے ، جو مسلسل مجھے پڑوسی کے بارے میں تلقین کر رہے تھے ، یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ وہ اُسے وارث قرار دیدیں گے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مبشر ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔