حدیث نمبر: 13518
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ قُعُودٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُ غُلَامٌ فَقَالَ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، غُلَامٌ يَتِيمٌ وَأُخْتٌ لَهُ يَتِيمَةٌ وَأُمٌّ لَهُ أَرْمَلَةٌ ، أَطْعِمْنَا أَطْعَمَكَ اللَّهُ مِمَّا عِنْدَكَ حَتَّى نَرْضَى . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَحْسَنَ مَا قُلْتَ يَا غُلَامُ ، انْطَلِقْ إِلَى أَهْلِنَا فَائْتِنَا بِمَا وَجَدْتَ عِنْدَهُمْ مِنْ طَعَامٍ . فَأَتَى بِلَالٌ بِوَاحِدَةٍ وَعِشْرِينَ تَمْرَةً ، فَوَضَعَهَا فِي كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكَفَّيْهِ إِلَى فِيهِ ، وَنَحْنُ نَرَى أَنَّهُ يَدْعُو اللَّهَ بِالْبَرَكَةِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا غُلَامُ سَبْعًا لَكَ ، وَسَبْعًا لِأُمِّكَ ، وَسَبْعًا لِأُخْتِكَ ، فَتَعَشَّى بِتَمْرَةٍ وَتَغَدَّى بِأُخْرَى " . فَلَمَّا انْصَرَفَ الْغُلَامُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ إِلَيْهِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ قَالَ : جَبَرَ اللَّهُ يُتْمَكَ ، وَجَعَلَكَ خَلَفًا مِنْ أَبِيكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدْ رَأَيْتُ مَا صَنَعْتَ بِالْغُلَامِ يَا مُعَاذُ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَحْمَةً لِلْغُلَامِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ ذَلِكَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَا يَلِي أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَتِيمًا إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ دَرَجَةً ، وَأَعْطَاهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةً ، وَكَفَّرَ عَنْهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَيِّئَةً " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِتَمَامِهِ ، وَرَوَى أَحْمَدُ طَرَفًا مِنْ أَوَّلِهِ ثُمَّ قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ وَفِي الْإِسْنَادِ فَائِدٌ أَبُو الْوَرْقَاءِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ایک بچہ آپ کے پاس آیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، ایک یتیم بچہ ہے اور اس کی ایک یتیم بہن ہے اور اس کی بیوہ ماں ہے ، تو آپ ہمیں کھانے کے لئے دیں ، اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے پاس سے کھانے کے لئے دے ( آپ ہمیں اتنا دیں ) کہ ہم راضی ہو جائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لڑکے ! تم نے کتنی اچھی بات کی ہے ، تم ہمارے گھر والوں کے پاس جاؤ اور تمہیں ان کے پاس جو بھی کھانے کی چیز ملتی ہے وہ ہمارے پاس لے آؤ ، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اکیس کھجوریں لے کے آئے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی پر رکھ دیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کے ذریعے اپنے منہ کے طرف اشارہ کیا ، ہم یہ بات دیکھ رہے تھے کہ آپ اس کے لئے برکت کی دعا کر رہے ہیں ، پھر آپ نے فرمایا : اے لڑکے ! سات تمہاری ہیں ، سات تمہاری ماں کے لئے ، سات تمہاری بہن کے لئے ہیں ، تم ایک کھجور رات کے وقت کھا لیا کرنا ، ایک صبح کھا لیا کرنا ، راوی کہتے ہیں : جب وہ لڑکا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اُٹھ کر واپس گیا ، تو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اُٹھ کر اس کی طرف گئے ، انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا اور بولے : اللہ تعالیٰ تمہاری یتیمی پر مہربانی کرے اور تمہارے باپ کی جگہ تمہیں اچھا سرپرست عطا کرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے معاذ ا تم نے اس لڑکے ساتھ جو کیا ہے ، وہ میں نے دیکھ لیا ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ اس لڑکے پر رحمت کی وجہ سے ( میں نے ) کیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے ، مسلمانوں میں سے جو بھی شخص کسی یتیم کا نگران بنتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر ایک بال کے عوض میں ایک درجہ نوٹ کر لیتا ہے ، اور اسے ہر ایک بال کے عوض میں ، ایک نیکی عطا کرتا ہے اور ہر ایک بال کے عوض میں اُس کی ایک برائی کو ختم کر دیتا ہے ۔ “ یہ رایت امام بزار نے مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، امام أحمد نے اس کا ابتدائی حصہ نقل کیا ہے ، پھر یہ بات بیان کی ہے : راوی نے اس کو ایک طویل حدیث کے طور پر نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فائد ابوورقاء ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13518
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1911)»