کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: یتیموں ، بیواؤں اور غریبوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13508
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَسْوَةَ قَلْبِهِ فَقَالَ : " امْسَحْ رَأْسَ الْيَتِيمِ وَأَطْعِمِ الْمِسْكِينَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دل کی سختی کی شکایت کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو ، اور غریب کو کھانا کھلاؤ ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13509
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ يَشْكُو قَسْوَةَ قَلْبِهِ ، قَالَ : " أَتُحِبُّ أَنْ يَلِينَ قَلْبُكَ وَتُدْرَكَ حَاجَتُكَ ؟ ارْحَمِ الْيَتِيمَ ، وَامْسَحْ رَأْسَهُ ، وَأَطْعِمْهُ مِنْ طَعَامِكَ ، يَلِنْ قَلْبُكَ وَتُدْرِكْ حَاجَتَكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ: مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے اپنے دل کی سختی کی شکایت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تمہارا دل نرم ہو جائے اور تم اپنے مقصد کو حاصل کر لو ؟ تو تم یتیم پر رحم کرو ، اس کے سر پر ہاتھ پھیرو ، اسے اپنے کھانے میں سے کھانا کھلاؤ ، تمہارا دل نرم ہو جائے گا اور تمہارا مقصد پورا ہو جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اور ایک راوی بقیہ ہے جو مدلس ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اور ایک راوی بقیہ ہے جو مدلس ہے ۔
حدیث نمبر: 13510
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ خَثْعَمَ فَقَالَ : " كَيْفَ تَجِدِينَكِ ؟ " . فَقَالَتْ : لَا أُرَانِي إِلَّا لِمَا بِي مَيِّتَةٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَدِدْتُ أَنَّكِ لَمْ تَخْرُجِي مِنَ الدُّنْيَا حَتَّى تَكْفُلِي يَتِيمًا ، أَوْ تُجَهِّزِي غَازِيًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ نُفَيْعٌ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے ہاں تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : تمہیں اپنا آپ کیسا محسوس ہوتا ہے ؟ اس نے عرض کی : میں اپنے بارے میں یہی سمجھتی ہوں کہ میں مرنے والی ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری یہ خواہش ہے کہ تم دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے کسی یتیم کی کفالت کرو ، یا کسی غازی کو سامان فراہم کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نفیع ابوداؤد اعمیٰ ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نفیع ابوداؤد اعمیٰ ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 13511
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ - وَجَمَعَ بَيْنَ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى - وَالسَّاعِي عَلَى الْيَتِيمِ وَالْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالصَّائِمِ الْقَائِمِ لَا يَفْتُرُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا شخص ، جنت میں ان دو ( انگلیوں ) کی طرح ہوں گے “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی کو ملا کر یہ بات ارشاد فرمائی ( اور پھر مزید فرمایا : ) ” یتیم ، یا بیوہ ، یا غریب کی دیکھ بھال کرنے والا ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ایسے شخص کی مانند ہے ، جو روزہ بھی رکھتا ہو ، نوافل بھی پڑھتا ہو اور ان کے درمیان کوئی وقفہ نہ کرے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13512
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا قَعَدَ يَتِيمٌ مَعَ قَوْمٍ عَلَى قَصْعَتِهِمْ فَيَقْرَبُ قَصْعَتَهُمْ شَيْطَانٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ وَاصِلٍ ، وَهُوَ الْحَسَنُ بْنُ دِينَارٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ ، وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب بھی کوئی یتیم شخص کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر اُن کے پیالے میں سے کھاتا ہے ، تو شیطان ان کے پیالے کے قریب نہیں آتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن واصل ہے اور وہ حسن بن دینار ہے اور وہ اپنے خراب حافظے کی وجہ سے ضعیف ہے اور یہ حدیث حسن ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن واصل ہے اور وہ حسن بن دینار ہے اور وہ اپنے خراب حافظے کی وجہ سے ضعیف ہے اور یہ حدیث حسن ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 13513
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَحَبَّ الْبُيُوتِ إِلَى اللَّهِ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُكْرَمُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحُنَيْنِيُّ ، وَقَدْ كَانَ مِمَّنْ يُخْطِئُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب گھر وہ ہے ، جس گھر میں یتیم کی عزت افزائی کی جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم حنینی ہے اور یہ ان افراد میں سے ہے جو غلطی کر جاتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم حنینی ہے اور یہ ان افراد میں سے ہے جو غلطی کر جاتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 13514
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ مَسَحَ عَلَى رَأْسِ يَتِيمٍ ، لَمْ يَمْسَحْهُ إِلَّا لِلَّهِ ، كَانَ لَهُ فِي كُلِّ شَعْرَةٍ مَرَّتْ عَلَيْهَا يَدُهُ حَسَنَاتٌ ، وَمَنْ أَحْسَنَ إِلَى يَتِيمَةٍ أَوْ يَتِيمٍ عِنْدَهُ كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ " . وَفَرَّقَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے اور وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہاتھ پھیرے ، تو اس کا ہاتھ جس بھی بال پر سے گزرتا ہے ، ہر ایک بال کے عوض میں اسے نیکیاں ملتی ہیں اور جو شخص کسی یتیم بچی یا یتیم بچے کے ساتھ اچھا سلوک کرے جو اس کے زیر پرورش ہو ، تو وہ اور میں جنت میں ان دو ( انگلیوں ) کی طرح ہوں گے ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی الگ کر کے ( یہ بات ارشاد فرمائی تھی ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13515
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْقُشَيْرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " وَمَنْ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ أَبَوَيْنِ مُسْلِمَيْنِ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يُغْنِيَهُ اللَّهُ ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن مالک قشیری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص دو مسلمان ماں باپ کے یتیم بچے کو اپنے کھانے اور پینے میں شریک کر لے ، یہاں تک اللہ تعالیٰ اس بچے کو بے نیاز کر دے ، تو اُس شخص کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13516
وَعَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهُ : أَبُو مَالِكٍ ، أَوِ ابْنُ مَالِكٍ ، سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ مُسْلِمِينَ فِي طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يَسْتَغْنِيَ عَنْهُ ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ . وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا ثُمَّ لَمْ يَبَرَّهُمَا ثُمَّ دَخَلَ النَّارَ ، فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً كَانَتْ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالسِّيَاقُ لَهُ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ حَسَنُ الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زرارہ بن اوفیٰ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے ایک فرد ، سیدنا ابومالک رضی اللہ عنہ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا ابن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص دو مسلمان ( ماں باپ ) کے یتیم بچے کو اپنے کھانے اور پینے میں شریک کر لے ( اور اس وقت تک شریک رکھے ) یہاں تک کہ وہ ( بچہ ) اُس سے بے نیاز ہو جائے ، تو اس شخص کے لئے جنت لازمی طور پر واجب ہو جاتی ہے ، اور جو شخص اپنے والدین میں سے کسی ایک کو پائے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرے اور پھر جہنم میں چلا جائے تو اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے اور جو مسلمان شخص ، کسی مسلمان گردن کو آزاد کر دے ، تو وہ اس کے لئے جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائے گی ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کا سیاق ان کا نقل کردہ ہے ، امام أحمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اور امام طبرانی نے بھی اسے نقل کیا ہے اور یہ سند کے اعتبار سے حسن ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کا سیاق ان کا نقل کردہ ہے ، امام أحمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اور امام طبرانی نے بھی اسے نقل کیا ہے اور یہ سند کے اعتبار سے حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 13517
وَعَنْ بَشِيرِ بْنِ عَقْرَبَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ : لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ فَقُلْتُ : مَا فَعَلَ أَبِي ؟ قَالَ : اسْتُشْهِدَ ، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ " . فَبَكَيْتُ ، فَأَخَذَنِي فَمَسَحَ رَأْسِي ، وَحَمَلَنِي مَعَهُ وَقَالَ : " أَمَا تَرْضَى أَنْ أَكُونَ أَنَا أَبُوكَ وَتَكُونَ عَائِشَةُ أُمَّكَ ؟ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بشیر بن عقربہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری ملاقات غزوہ اُحد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ، میں نے دریافت کیا : میرے والد کا کیا بنا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُس نے جام شہادت نوش کر لیا ہے ، اللہ تعالیٰ کی اس پر رحمت ہو ، تو میں رونے لگا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑا ، میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھے اپنے ساتھ سواری پر بٹھا لیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ میں تمہارا باپ ہوؤں اور عائشہ تمہاری ماں ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 13518
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ قُعُودٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُ غُلَامٌ فَقَالَ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، غُلَامٌ يَتِيمٌ وَأُخْتٌ لَهُ يَتِيمَةٌ وَأُمٌّ لَهُ أَرْمَلَةٌ ، أَطْعِمْنَا أَطْعَمَكَ اللَّهُ مِمَّا عِنْدَكَ حَتَّى نَرْضَى . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَحْسَنَ مَا قُلْتَ يَا غُلَامُ ، انْطَلِقْ إِلَى أَهْلِنَا فَائْتِنَا بِمَا وَجَدْتَ عِنْدَهُمْ مِنْ طَعَامٍ . فَأَتَى بِلَالٌ بِوَاحِدَةٍ وَعِشْرِينَ تَمْرَةً ، فَوَضَعَهَا فِي كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكَفَّيْهِ إِلَى فِيهِ ، وَنَحْنُ نَرَى أَنَّهُ يَدْعُو اللَّهَ بِالْبَرَكَةِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا غُلَامُ سَبْعًا لَكَ ، وَسَبْعًا لِأُمِّكَ ، وَسَبْعًا لِأُخْتِكَ ، فَتَعَشَّى بِتَمْرَةٍ وَتَغَدَّى بِأُخْرَى " . فَلَمَّا انْصَرَفَ الْغُلَامُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ إِلَيْهِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ قَالَ : جَبَرَ اللَّهُ يُتْمَكَ ، وَجَعَلَكَ خَلَفًا مِنْ أَبِيكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدْ رَأَيْتُ مَا صَنَعْتَ بِالْغُلَامِ يَا مُعَاذُ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَحْمَةً لِلْغُلَامِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ ذَلِكَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَا يَلِي أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَتِيمًا إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ دَرَجَةً ، وَأَعْطَاهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةً ، وَكَفَّرَ عَنْهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَيِّئَةً " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِتَمَامِهِ ، وَرَوَى أَحْمَدُ طَرَفًا مِنْ أَوَّلِهِ ثُمَّ قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ وَفِي الْإِسْنَادِ فَائِدٌ أَبُو الْوَرْقَاءِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ایک بچہ آپ کے پاس آیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، ایک یتیم بچہ ہے اور اس کی ایک یتیم بہن ہے اور اس کی بیوہ ماں ہے ، تو آپ ہمیں کھانے کے لئے دیں ، اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے پاس سے کھانے کے لئے دے ( آپ ہمیں اتنا دیں ) کہ ہم راضی ہو جائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لڑکے ! تم نے کتنی اچھی بات کی ہے ، تم ہمارے گھر والوں کے پاس جاؤ اور تمہیں ان کے پاس جو بھی کھانے کی چیز ملتی ہے وہ ہمارے پاس لے آؤ ، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اکیس کھجوریں لے کے آئے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی پر رکھ دیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کے ذریعے اپنے منہ کے طرف اشارہ کیا ، ہم یہ بات دیکھ رہے تھے کہ آپ اس کے لئے برکت کی دعا کر رہے ہیں ، پھر آپ نے فرمایا : اے لڑکے ! سات تمہاری ہیں ، سات تمہاری ماں کے لئے ، سات تمہاری بہن کے لئے ہیں ، تم ایک کھجور رات کے وقت کھا لیا کرنا ، ایک صبح کھا لیا کرنا ، راوی کہتے ہیں : جب وہ لڑکا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اُٹھ کر واپس گیا ، تو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اُٹھ کر اس کی طرف گئے ، انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا اور بولے : اللہ تعالیٰ تمہاری یتیمی پر مہربانی کرے اور تمہارے باپ کی جگہ تمہیں اچھا سرپرست عطا کرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے معاذ ا تم نے اس لڑکے ساتھ جو کیا ہے ، وہ میں نے دیکھ لیا ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ اس لڑکے پر رحمت کی وجہ سے ( میں نے ) کیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے ، مسلمانوں میں سے جو بھی شخص کسی یتیم کا نگران بنتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر ایک بال کے عوض میں ایک درجہ نوٹ کر لیتا ہے ، اور اسے ہر ایک بال کے عوض میں ، ایک نیکی عطا کرتا ہے اور ہر ایک بال کے عوض میں اُس کی ایک برائی کو ختم کر دیتا ہے ۔ “ یہ رایت امام بزار نے مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، امام أحمد نے اس کا ابتدائی حصہ نقل کیا ہے ، پھر یہ بات بیان کی ہے : راوی نے اس کو ایک طویل حدیث کے طور پر نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فائد ابوورقاء ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13519
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوَّلُ مَنْ يَفْتَحُ بَابَ الْجَنَّةِ ، إِلَّا أَنَّهُ تَأْتِي امْرَأَةٌ تُبَادِرُنِي ، فَأَقُولُ لَهَا : مَا لَكِ ؟ وَمَنْ أَنْتِ ؟ فَتَقُولُ : أَنَا امْرَأَةٌ قَعَدْتُ عَلَى أَيْتَامٍ لِي " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَجْلَانَ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جنت کا دروازہ کھولنے والا پہلا فرد ہوؤں گا ، پھر ایک عورت آئے گی اور وہ مجھ سے آگے نکل جائے گی ، میں اُس سے کہوں گا : تمہیں کیا معاملہ ہے ؟ اور تم کون ہو ؟ تو وہ کہے گی : میں وہ عورت ہوں ، جو اپنے یتیم بچوں کی خاطر بیوہ بیٹھی رہی تھی ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام بن عجلان ہے ، جسے ابوحاتم نے اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کرتا ہے اور دوسروں کے برخلاف نقل کرتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام بن عجلان ہے ، جسے ابوحاتم نے اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کرتا ہے اور دوسروں کے برخلاف نقل کرتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13520
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَفَلَ يَتِيمًا لَهُ ذَا قَرَابَةٍ أَوْ لَا قَرَابَةَ لَهُ ، فَأَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ " . وَضَمَّ أَصْبُعَيْهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی یتیم کا کفیل بن جائے ، خواہ وہ ( یتیم ) اُس کا رشتے دار ہو ، یا رشتے دار نہ ہو ، تو میں اور وہ شخص جنت میں ان دو ( انگلیوں ) کی طرح ہوں گے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انگلیاں ملا کر یہ بات ارشاد فرمائی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔
حدیث نمبر: 13521
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ ضَمَّ يَتِيمًا لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ حَتَّى يُغْنِيَهُ اللَّهُ عَنْهُ ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمُسَيِّبُ بْنُ شَرِيكٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے ( خاندان کے ) یا کسی اور یتیم کو ساتھ ملا لیتا ہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس یتیم کو بے نیاز کر دے ، تو اس شخص کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسیب بن شریک ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسیب بن شریک ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13522
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ آوَى يَتِيمًا أَوْ يَتِيمَيْنِ ، ثُمَّ صَبَرَ وَاحْتَسَبَ كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ " . وَحَوَّلَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ایک یا دو یتیموں کو پناہ دیتا ہے ، پھر وہ صبر سے کام لیتا ہے اور ثواب کی امید رکھتا ہے ، تو میں اور وہ جنت میں ان دو ( انگلیوں ) کی طرح ہوں گے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو موڑ کر یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 13523
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحُنَيْنِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا ، جنت میں ان دو ( انگلیوں ) کی طرح ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم حنینی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم حنینی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گی ہے ۔
حدیث نمبر: 13524
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَفَلَ يَتِيمًا لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَمِلَ عَمَلًا لَا يُغْفَرُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اپنے ( خاندان کے ) یا غیر ( خاندان کے ) یتیم کی کفالت کرتا ہے ، اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے ، البتہ اس صورت میں حکم مختلف ہے ، جب اس نے کوئی ایسا کام کیا ہو ، جس کی مغفرت نہ ہو سکتی ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن زبرقان ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن زبرقان ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13525
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، ذَكَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ قَبَضَ يَتِيمًا بَيْنَ مُسْلِمِينَ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ إِلَّا أُدْخِلُ الْجَنَّةَ الْبَتَّةَ ، إِلَّا أَنْ يَعْمَلَ ذَنْبًا لَا يُغْفَرُ ، وَمَنْ أُخِذَتْ كَرِيمَتَاهُ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ ، لَمْ يَكُنْ لَهُ ثَوَابٌ إِلَّا الْجَنَّةَ " . قِيلَ : وَمَا كَرِيمَتَاهُ ؟ قَالَ : " عَيْنَاهُ " . قَالَ : " وَمَنْ عَالَ ثَلَاثَ بَنَاتٍ عَلَّمَهُنَّ وَزَوَّجَهُنَّ وَأَحْسَنَ أَدَبَهُنَّ ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ : أَوِ اثْنَتَيْنِ ؟ قَالَ : " أَوِ اثْنَتَيْنِ " . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هَذَا مِنْ كَرَائِمِ الْحَدِيثِ وَغُرَرِهِ . قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَنَشُ بْنُ قَيْسٍ الرَّحَبِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات ذکر کرتے ہیں : ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” جو بھی مسلمان شخص کسی مسلمان ماں باپ کے یتیم بچے کو اپنے کھانے اور پینے میں ساتھ شامل کر لیتا ہے ، تو وہ لازمی طور پر جنت میں داخل ہو گا ، البتہ ایسی صورت میں حکم مختلف ہے ، جب اس نے کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کیا ، ہو جس کی مغفرت نہ ہو سکتی ہو ، اور جس شخص کی دو پسندیدہ چیزیں لے لی جائیں اور وہ صبر سے کام لے اور ثواب کی امید رکھے ، اس کے لئے جنت کے علاوہ اور کوئی ثواب نہیں ہے ، عرض کی گی : اس کی دو پسندیدہ چیزوں سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی دونوں آنکھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : جو شخص تین بیٹیوں کی کفالت کرتا ہے اور ان پر خرچ کرتا ہے اور ان کی شادی کروا دیتا ہے اور ان کی اچھی تربیت کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں داخل کرے گا ، دیہاتیوں میں سے ایک شخص نے عرض کی : اگر دو ( بیٹیاں ) ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر دو ہوں ( تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا ) ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : یہ بہترین اور لاجواب احادیث میں سے ایک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حنش بن قیس رحبی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حنش بن قیس رحبی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13526
وَعَنْ بِنْتٍ لِمُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهَا أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَافِلُ الْيَتِيمِ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ إِذَا اتَّقَى مَعِي فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ " . يَعْنِي الْمُسَبِّحَةَ وَالْوُسْطَى . وَقَالَ فِي طَرِيقٍ أُخْرَى : عَنْ أُمِّ سَعِيدٍ بِنْتٌ لِمُرَّةَ الْفِهْرِيِّ عَنْ أَبِيهَا ، وَبِنْتٍ لِمُرَّةَ لَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مرہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی نے ، اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” اپنے ( خاندان کے ) یا کسی اور یتیم کی کفالت کرنے والا شخص ، جنت میں میرے ساتھ ان دو ( انگلیوں ) کی مانند ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی تھی ۔ ایک اور سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے : سیدنا مرہ فہری رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدہ ام سعید رضی اللہ عنہا اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتی ہیں ، سیدنا مرہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13527
وَعَنْ أُمِّ سَعِيدٍ بِنْتِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُمَحِيَّةِ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَفَلَ يَتِيمًا لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ مِنَ النَّاسِ ، كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام سعید بنت عمرو بن مرہ جمحیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جو شخص اپنے ( خاندان کے ) یا لوگوں میں سے کسی اور کے یتیم کی کفالت کرتا ہے ، تو میں اور وہ شخص جنت میں ان دو ( انگلیوں ) کی طرح ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13528
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِمَّا أَضْرِبُ يَتِيمِي ؟ قَالَ : " مِمَّا كُنْتَ ضَارِبًا مِنْهُ وَلَدَكَ غَيْرَ وَافٍ مَالَكَ بِمَالِهِ ، وَلَا مُتَأَثِّلٍ مِنْ مَالِهِ مَالًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کس وجہ سے اپنے زیر پرورش یتیم کی پٹائی کر سکتا ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کام کی وجہ سے ، جس کی وجہ سے تم اپنی اولاد کی پٹائی کرتے ، جبکہ تم اپنے مال کو اس کے مال کے ذریعے زیادہ کرنے والے نہ ہو ، یا اس کے مال کے ذریعے اپنے مال کو جمع کرنے والے نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن مہدی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن مہدی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13529
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُنْ لِلْيَتِيمِ كَالْأَبِ الرَّحِيمِ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ فِي الزُّهْدِ . وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم یتیم کے لئے مہربان باپ کی مانند ہو جاؤ !“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو کتاب الزہد میں مذکور ہے اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13530
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْيَتِيمُ يُمْسَحُ رَأْسُهُ هَكَذَا " . وَوَصَفَ صَالِحٌ أَنَّهُ وَضَعَ كَفَّهُ عَلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ مِمَّا يَلِي جَبْهَتَهُ ، ثُمَّ أَصْعَدَهَا إِلَى وَسَطِ رَأْسِهِ ، ثُمَّ أَحْدَرَهَا إِلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ أَوْ إِلَى جَبْهَتِهِ . " وَمَنْ كَانَ لَهُ أَبٌ هَكَذَا " . وَوَصَفَ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ الْغُلَامُ يَتِيمًا فَامْسَحُوا رَأْسَهُ هَكَذَا - إِلَى قُدَّامَ - وَإِذَا كَانَ لَهُ أَبٌ فَامْسَحُوا رَأْسَهُ هَكَذَا - إِلَى خَلْفٍ مِنْ مُقَدَّمِهِ - " . وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَقَدْ ذَكَرُوا هَذَا مِنْ مَنَاكِيرِ حَدِيثِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یتیم کے سر پر اس طرح ہاتھ پھیرا جائے گا“ ۔ اس کے بعد صالح نامی راوی نے یہ طریقہ کر کے دکھایا کہ انہوں نے اپنی ہتھیلی سر کے اگلے والے حصے پر رکھی ، جو پیشانی کے قریب ہوتا ہے اور پھر وہ اُسے لے کر سر کے درمیانی حصے تک چلے گئے ، پھر وہ اسے سر کے اگلے حصے تک ، یا پیشانی تک واپس لے کے آئے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ) ” جس شخص کا باپ موجود ہو ، اُس شخص کے ساتھ اس طرح کیا جائے گا ۔ “ انہوں نے اپنی ہتھیلی سر کے اگلے حصے پر پیشانی کے قریب والی جگہ پر رکھی اور پھر وہ اسے سر کے درمیانی حصے تک لے گئے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بچہ یتیم ہو ، تو تم اُس کے سر پر اس طرح آگے کی طرف ہاتھ پھیرو اور جب اس کا باپ موجود ہو ، تو تم اس کے سر پر اس طرح ، آگے سے پیچھے کی طرف ہاتھ پھیرو“ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان ہے ، لوگوں نے اس روایت کا ذکر اس کی نقل کردہ منکر احادیث میں کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بچہ یتیم ہو ، تو تم اُس کے سر پر اس طرح آگے کی طرف ہاتھ پھیرو اور جب اس کا باپ موجود ہو ، تو تم اس کے سر پر اس طرح ، آگے سے پیچھے کی طرف ہاتھ پھیرو“ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان ہے ، لوگوں نے اس روایت کا ذکر اس کی نقل کردہ منکر احادیث میں کیا ہے ۔