حدیث نمبر: 13519
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوَّلُ مَنْ يَفْتَحُ بَابَ الْجَنَّةِ ، إِلَّا أَنَّهُ تَأْتِي امْرَأَةٌ تُبَادِرُنِي ، فَأَقُولُ لَهَا : مَا لَكِ ؟ وَمَنْ أَنْتِ ؟ فَتَقُولُ : أَنَا امْرَأَةٌ قَعَدْتُ عَلَى أَيْتَامٍ لِي " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَجْلَانَ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جنت کا دروازہ کھولنے والا پہلا فرد ہوؤں گا ، پھر ایک عورت آئے گی اور وہ مجھ سے آگے نکل جائے گی ، میں اُس سے کہوں گا : تمہیں کیا معاملہ ہے ؟ اور تم کون ہو ؟ تو وہ کہے گی : میں وہ عورت ہوں ، جو اپنے یتیم بچوں کی خاطر بیوہ بیٹھی رہی تھی ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام بن عجلان ہے ، جسے ابوحاتم نے اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کرتا ہے اور دوسروں کے برخلاف نقل کرتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13519
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6651)»