مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَيْتَامِ وَالْأَرَامِلِ وَالْمَسَاكِينِ باب: یتیموں ، بیواؤں اور غریبوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ بَشِيرِ بْنِ عَقْرَبَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ : لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ فَقُلْتُ : مَا فَعَلَ أَبِي ؟ قَالَ : اسْتُشْهِدَ ، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ " . فَبَكَيْتُ ، فَأَخَذَنِي فَمَسَحَ رَأْسِي ، وَحَمَلَنِي مَعَهُ وَقَالَ : " أَمَا تَرْضَى أَنْ أَكُونَ أَنَا أَبُوكَ وَتَكُونَ عَائِشَةُ أُمَّكَ ؟ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ . ¤سیدنا بشیر بن عقربہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری ملاقات غزوہ اُحد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ، میں نے دریافت کیا : میرے والد کا کیا بنا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُس نے جام شہادت نوش کر لیا ہے ، اللہ تعالیٰ کی اس پر رحمت ہو ، تو میں رونے لگا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑا ، میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھے اپنے ساتھ سواری پر بٹھا لیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ میں تمہارا باپ ہوؤں اور عائشہ تمہاری ماں ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔