حدیث نمبر: 13516
وَعَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهُ : أَبُو مَالِكٍ ، أَوِ ابْنُ مَالِكٍ ، سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ مُسْلِمِينَ فِي طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يَسْتَغْنِيَ عَنْهُ ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ . وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا ثُمَّ لَمْ يَبَرَّهُمَا ثُمَّ دَخَلَ النَّارَ ، فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ ، وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً كَانَتْ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالسِّيَاقُ لَهُ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ حَسَنُ الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا زرارہ بن اوفیٰ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے ایک فرد ، سیدنا ابومالک رضی اللہ عنہ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا ابن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص دو مسلمان ( ماں باپ ) کے یتیم بچے کو اپنے کھانے اور پینے میں شریک کر لے ( اور اس وقت تک شریک رکھے ) یہاں تک کہ وہ ( بچہ ) اُس سے بے نیاز ہو جائے ، تو اس شخص کے لئے جنت لازمی طور پر واجب ہو جاتی ہے ، اور جو شخص اپنے والدین میں سے کسی ایک کو پائے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرے اور پھر جہنم میں چلا جائے تو اللہ تعالیٰ اسے دور کر دے اور جو مسلمان شخص ، کسی مسلمان گردن کو آزاد کر دے ، تو وہ اس کے لئے جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائے گی ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کا سیاق ان کا نقل کردہ ہے ، امام أحمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اور امام طبرانی نے بھی اسے نقل کیا ہے اور یہ سند کے اعتبار سے حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13516
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (926) اخرجه احمد فى المسند (344/4)»