حدیث نمبر: 13499
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ وَمَعَهَا بِنْتَانِ لَهَا ، قَالَ : فَأَعْطَتْهَا عَائِشَةُ ثَلَاثَ تَمَرَاتٍ ، فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا تَمْرَةً ، ثُمَّ أَخَذَتْ تَمْرَةً لِتَضَعَهَا فِي فَمِهَا ، قَالَ : فَنَظَرَ الصَّبِيَّانِ إِلَيْهَا ، قَالَ : فَصَدَعَتْهَا نِصْفَيْنِ فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا نِصْفًا ، وَخَرَجَتْ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثَتْهُ عَائِشَةُ بِمَا فَعَلَتْ - أَوْ تَفْعَلُ - الْمَرْأَةُ ، قَالَ : " فَلَقَدْ دَخَلَتْ بِذَلِكَ الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ ، وَذَكَرَهُ الْمِزِّيُّ فِي تَرْجَمَةِ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْفَرَاهِيدِيِّ الرَّاوِي عَنْهُ ، فَقَالَ : عُبَيْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ فَضَالَةَ أَخُو مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ . قُلْتُ : وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے تین کھجوریں دیں ، اس نے دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک کھجور دی ، پھر اس نے تیسری کھجور پکڑی اور وہ اپنے منہ میں رکھنے لگی ، تو وہ دونوں بچیاں اس کی طرف دیکھ رہی تھیں ، اُس نے اس کھجور کو دو حصوں میں تقسیم کیا ، اور اُن میں سے ہر ایک کو نصف نصف کھجور دے دی ، پھر وہ چلی گی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس عورت کے طرز عمل کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ عورت اس کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جائے گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن فضالہ ہے ، جس کا ذکر امام مزی نے مسلم بن ابراہیم فراہیدی کے حالات میں کیا ہے ، جو اس سے روایت نقل کرنے والا شخص ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : عبیدالرحمن بن فضالہ ، مبارک بن فضالہ کا بھائی ہے ، میں یہ کہتا ہوں : میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13499
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1890)»