کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اولاد ، قریبی رشتہ داروں ، اور ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 13490
عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، أَلَا أُحَدِّثُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْتُ : بَلَى يَا أُمَّهْ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَنْفَقَ عَلَى ابْنَتَيْنِ أَوْ أُخْتَيْنِ أَوْ ذَوَاتَيْ قَرَابَةٍ يَحْتَسِبُ النَّفَقَةَ عَلَيْهِمَا حَتَّى يُغْنِيَهُمَا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ أَوْ يَكْفِيَهُمَا ، كَانَتَا سِتْرًا لَهُ مِنَ النَّارِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمَدَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
مطلب بن عبداللہ مخزومی بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! کیا میں تمہیں وہ حدیث بیان نہ کروں ؟ جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ، میں نے عرض کی : اے امی جان ! جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص دو بیٹیوں ، یا دو بہنوں ، یا دو رشتے دار خواتین پر خرچ کرتا ہے ، اور وہ اُن پر خرچ کرنے کے حوالے سے ثواب کی امید رکھتا ہے ، اور اس وقت تک خرچ کرتا رہتا ہے ، جب تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے ، وہ دونوں ( لڑکیاں ) بے نیاز نہیں ہو جاتی ہیں ، یا اُن دونوں کی کفایت نہیں ہو جاتی ، تو وہ دونوں خواتین اُس شخص کے لئے جہنم سے بچاؤ کے لئے رکاوٹ بن جائیں گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حمید مدنی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13490
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (392/23) اخرجه احمد فى المسند (293/6)»
حدیث نمبر: 13491
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كُنَّ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ يُؤْوِيهِنَّ وَيَرْحَمُهُنَّ وَيَكْفُلُهُنَّ ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ أَلْبَتَّةَ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنْ كَانَتِ اثْنَتَيْنِ ؟ قَالَ : " وَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ " . قَالَ : فَرَأَى بَعْضُ الْقَوْمِ أَنْ لَوْ قَالَ : وَاحِدَةً ، لَقَالَ : " وَاحِدَةٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَزَادَ : " وَيُزَوِّجُهُنَّ " . مِنْ طُرُقٍ ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں ، جنہیں وہ پناہ دے ، اُن پر رحم کرے ان کی کفالت کرے ، تو اس شخص کے لئے لازمی طور پر جنت واجب ہو جاتی ہے ، عرض کی گی : یا رسول اللہ ! اگر دو ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر دو ہوں ، تو بھی یہی ہوتا ہے ، راوی کہتے ہیں : حاضرین کا یہ خیال تھا کہ اگر وہ شخص یہ سوال کرتا کہ اگر ایک ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرما دینا تھا کہ اگر ایک ہو ( تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا ) ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” اور وہ ان کی شادی کروا دے ۔ “ یہ مختلف طرق کے ساتھ منقول ہے ، امام أحمد کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13491
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1908) اخرجه ابو يعلى فى المسند (2210) اخرجه احمد فى المسند (303/3)»
حدیث نمبر: 13492
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أُخْتَانِ فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُمَا [مَا صَحِبَتَاهُ] دَخَلَ بِهِمَا الْجَنَّةَ " . قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " ابْنَتَانِ " . بَدَلَ : " أُخْتَانِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس کی دو بہنیں ہوں ، اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے ، جب تک وہ دونوں اس کے ساتھ رہیں ، تو وہ ان دونوں کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جائے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے ” دو بہنوں “ کی جگہ ” دو بیٹیوں “ کا لفظ ذکر کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شرحبیل بن سعد ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13492
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (236/1)»
حدیث نمبر: 13493
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كَفَلَ يَتِيمًا لَهُ ذُو قَرَابَةٍ أَوْ لَا قَرَابَةَ لَهُ فَأَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ - وَضَمَّ إِصْبَعَيْهِ - وَمَنْ سَعَى عَلَى ثَلَاثِ بَنَاتٍ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ ، وَكَانَ لَهُ كَأَجْرِ مُجَاهِدٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَائِمًا قَائِمًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی یتیم کی کفالت کرے ، خواہ وہ رشتے دار ہو یا رشتے دار نہ ہو ، تو جنت میں ، میں اور وہ ( ان دو انگلیوں ) کی طرح ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیاں ملا کر یہ بات ارشاد فرمائی ( اور پھر فرمایا : ) جو شخص تین بیٹیوں کو پالتا پوستا ہے ، وہ جنت میں جائے گا اور اسے اللہ کی راہ میں روزہ رکھنے اور قیام کرنے والے مجاہد کے اجر کی مانند اجر ملے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13493
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1909)»
حدیث نمبر: 13494
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَكُونُ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ فَيُنْفِقُ عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَبْلُغْنَ أَوْ يَمُتْنَ ، إِلَّا كُنَّ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ " . فَقَالَتِ امْرَأَةٌ : أَوِ اثْنَتَانِ ؟ قَالَ : " وَثِنْتَانِ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس بھی مسلمان کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان پر خرچ کرے ، یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائیں ، یا انتقال کر جائیں ، تو وہ اس کے لئے جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گی ، ایک خاتون نے عرض کی : اگر دو ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر دو ہوں ( تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نہاس بن قہم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13494
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (56/18) اخرجه احمد فى المسند (27/6)»
حدیث نمبر: 13495
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ أُمَّتِي مِنْ أَحَدٍ يَكُونُ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ يَعُولُهُنَّ حَتَّى يَبْلُغْنَ ، إِلَّا كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا " . وَجَمَعَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى . قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ : " مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے جس بھی فرد کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں ، اور وہ اُن کی کفالت کرے ، یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائیں ، تو وہ شخص جنت میں میرے ساتھ اس طرح ہو گا “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو اکٹھا کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں یہ بات مذکور ہے : ” جو شخص دو لڑکیوں کی کفالت کرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13495
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3448) اخرجه احمد فى المسند (147/3)»
حدیث نمبر: 13496
وَعَنْ أَبِي الْمُحَبَّرَةِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَالَ ابْنَتَيْنِ أَوْ أُخْتَيْنِ أَوْ خَالَتَيْنِ أَوْ عَمَّتَيْنِ أَوْ جَدَّتَيْنِ فَهُوَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ - وَضَمَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالَّتِي إِلَى جَنْبَهَا - فَإِنْ كُنَّ ثَلَاثًا فَهُوَ مُفْرَحٌ، وَإِنْ كُنَّ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا فَيَا عِبَادَ اللَّهِ أَدْرِكُوهُ أَقْرِضُوهُ ضَارِبُوهُ ضَارِبُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومحبرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص دو بیٹیوں ، یا دو بہنوں ، یا دو خالاؤں ، یا دو پھوپھیوں ، یا دو دادیوں ( یا دو نانیوں ) کی کفالت کرتا ہے ، تو وہ میرے ساتھ جنت میں ان دو ( انگلیوں ) کی طرح ہو گا “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی کو ملا کر یہ بات ارشاد فرمائی ( اور پھر مزید ارشاد فرمایا : ) ” اگر وہ تین ہوں ، تو وہ شخص قرض کے بوجھ تلے آ جائے گا اور اگر وہ چار یا پانچ ہوں ، تو اے اللہ کے بندو ! اس تک جاؤ ، اسے قرض دو ، اس کے ساتھ مضاربت کرو ، اس کے ساتھ مضاربت کرو ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13496
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (385/22)»
حدیث نمبر: 13497
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ ابْنَةٌ فَأَدَّبَهَا وَأَحْسَنَ أَدَبَهَا، وَعَلَّمَهَا وَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا ، وَأَوْسَعَ عَلَيْهَا مِنْ نِعَمِ اللَّهِ الَّتِي أَوْسَعَ عَلَيْهِ ، كَانَتْ لَهُ مَنَعَةً وَسِتْرًا مِنَ النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ وَضَّاعٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس شخص کی ایک بیٹی ہو ، وہ اس کی تربیت کرے اور اچھی تربیت کرے ، اُسے تعلیم دے اور اچھی تعلیم دے ، اور اُس کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں کشادگی سے دے ، جو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو عطا کی ہوئی ہوں ، تو وہ بچی اس شخص کے لئے جہنم سے رکاوٹ اور بچاؤ کا باعث بن جائے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید ہے اور وہ حدیث ایجاد کرنے والا شخص ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13497
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10447)»
حدیث نمبر: 13498
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كُنَّ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ فَعَالَهُنَّ وَآوَاهُنَّ وَكَفَّهُنَّ ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . قُلْنَا : وَبِنْتَيْنِ ؟ قَالَ : " وَبِنْتَيْنِ " . قُلْنَا : وَوَاحِدَةً ؟ قَالَ : " وَوَاحِدَةً " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں ، وہ شخص اُن کی کفالت کرے ، انہیں پناہ دے اور ان کی دیکھ بھال کرے ، تو اس شخص کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے ، ہم نے عرض کی : اگر دو بیٹیاں ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر دو بیٹیاں ہوں ( تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے ) ہم نے عرض کی : اگر ایک ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر ایک ہو ( تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13498
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13499
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ وَمَعَهَا بِنْتَانِ لَهَا ، قَالَ : فَأَعْطَتْهَا عَائِشَةُ ثَلَاثَ تَمَرَاتٍ ، فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا تَمْرَةً ، ثُمَّ أَخَذَتْ تَمْرَةً لِتَضَعَهَا فِي فَمِهَا ، قَالَ : فَنَظَرَ الصَّبِيَّانِ إِلَيْهَا ، قَالَ : فَصَدَعَتْهَا نِصْفَيْنِ فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا نِصْفًا ، وَخَرَجَتْ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثَتْهُ عَائِشَةُ بِمَا فَعَلَتْ - أَوْ تَفْعَلُ - الْمَرْأَةُ ، قَالَ : " فَلَقَدْ دَخَلَتْ بِذَلِكَ الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ ، وَذَكَرَهُ الْمِزِّيُّ فِي تَرْجَمَةِ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْفَرَاهِيدِيِّ الرَّاوِي عَنْهُ ، فَقَالَ : عُبَيْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ فَضَالَةَ أَخُو مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ . قُلْتُ : وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے تین کھجوریں دیں ، اس نے دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک کھجور دی ، پھر اس نے تیسری کھجور پکڑی اور وہ اپنے منہ میں رکھنے لگی ، تو وہ دونوں بچیاں اس کی طرف دیکھ رہی تھیں ، اُس نے اس کھجور کو دو حصوں میں تقسیم کیا ، اور اُن میں سے ہر ایک کو نصف نصف کھجور دے دی ، پھر وہ چلی گی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس عورت کے طرز عمل کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ عورت اس کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جائے گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن فضالہ ہے ، جس کا ذکر امام مزی نے مسلم بن ابراہیم فراہیدی کے حالات میں کیا ہے ، جو اس سے روایت نقل کرنے والا شخص ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : عبیدالرحمن بن فضالہ ، مبارک بن فضالہ کا بھائی ہے ، میں یہ کہتا ہوں : میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13499
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1890)»
حدیث نمبر: 13500
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهَا ابْنَاهَا فَسَأَلَتْهُ فَأَعْطَاهَا ثَلَاثَ تَمَرَاتٍ ، لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ تَمْرَةٌ ، فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ تَمْرَةً فَأَكَلَهَا ، ثُمَّ نَظَرَا إِلَى أُمِّهِمَا ، فَشَقَّتِ التَّمْرَةَ بِنِصْفَيْنِ وَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا نِصْفَ تَمْرَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدْ رَحِمَهَا اللَّهُ بِرَحْمَتِهَا ابْنَيْهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ خَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اس کے ساتھ اس کے دو بیٹے تھے ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین کھجوریں دیں ، تاکہ ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک کھجور مل جائے ، اس نے ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک کھجور دی ، پھر وہ خود کھجور کھانے لگی ، تو دونوں بچے اپنی ماں کی طرف دیکھنے لگے ، تو اس نے تیسری کھجور کے دو حصے کئے اور ان میں سے ہر ایک کو نصف نصف کھجور دیدی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس عورت کے اپنے دونوں بیٹوں پر رحم کرنے کی وجہ سے ، اللہ تعالیٰ نے بھی اس عورت پر رحم کر دیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خدیج بن معاویہ جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13500
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (850) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2715)»