مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي الْأَوْلَادِ وَالْأَقَارِبِ وَفَضْلِ النَّفَقَةِ عَلَيْهِمْ باب: اولاد ، قریبی رشتہ داروں ، اور ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان
عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، أَلَا أُحَدِّثُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْتُ : بَلَى يَا أُمَّهْ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَنْفَقَ عَلَى ابْنَتَيْنِ أَوْ أُخْتَيْنِ أَوْ ذَوَاتَيْ قَرَابَةٍ يَحْتَسِبُ النَّفَقَةَ عَلَيْهِمَا حَتَّى يُغْنِيَهُمَا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ أَوْ يَكْفِيَهُمَا ، كَانَتَا سِتْرًا لَهُ مِنَ النَّارِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمَدَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤مطلب بن عبداللہ مخزومی بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! کیا میں تمہیں وہ حدیث بیان نہ کروں ؟ جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ، میں نے عرض کی : اے امی جان ! جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص دو بیٹیوں ، یا دو بہنوں ، یا دو رشتے دار خواتین پر خرچ کرتا ہے ، اور وہ اُن پر خرچ کرنے کے حوالے سے ثواب کی امید رکھتا ہے ، اور اس وقت تک خرچ کرتا رہتا ہے ، جب تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے ، وہ دونوں ( لڑکیاں ) بے نیاز نہیں ہو جاتی ہیں ، یا اُن دونوں کی کفایت نہیں ہو جاتی ، تو وہ دونوں خواتین اُس شخص کے لئے جہنم سے بچاؤ کے لئے رکاوٹ بن جائیں گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حمید مدنی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔