مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَوْلَادِ باب: اولاد کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13489
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ ابْنٌ لَهُ فَقَبَّلَهُ وَأَجْلَسَهُ عَلَى فَخِذِهِ ، وَجَاءَتْهُ بَنِيَّةٌ لَهُ فَأَجْلَسَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا سَوَّيْتَ بَيْنَهُمَا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ فَقَالَ : حَدَّثَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا وَلَمْ يُسَمِّهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، اس کا بیٹا اس کے پاس آیا ، اس شخص نے اس کو بوسہ دیا اور اسے اپنے زانوں پر بٹھا لیا ، پھر اس کی بیٹی اس کے پاس آئی ، تو اُس شخص نے اسے اپنے آگے بٹھا لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے ان دونوں کے درمیان برابری کیوں نہیں رکھی ؟ “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : ہمارے بعض اصحاب نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے ، انہوں نے اس راوی کا نام بیان نہیں کیا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔