مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَقَطْعِهَا باب: رشتے داری کے حقوق کا خیال کرنا ، اور انہیں پامال کرنا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَصَابَتْ قُرَيْشًا أَزْمَةٌ شَدِيدَةٌ حَتَّى أَكَلُوا الرِّمَّةَ ، وَلَمْ يَكُنْ مِنْ قُرَيْشٍ أَحَدٌ أَيْسَرَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْعَبَّاسِ : " يَا عَمِّ ، إِنَّ أَخَاكَ أَبَا طَالِبٍ قَدْ عَلِمْتَ كَثْرَةَ عِيَالِهِ ، وَقَدْ أَصَابَ قُرَيْشًا مَا تَرَى ، فَاذْهَبْ بِنَا إِلَيْهِ حَتَّى نَحْمِلَ عَنْهُ بَعْضَ عِيَالِهِ " . فَانْطَلَقَا إِلَيْهِ فَقَالَا : يَا أَبَا طَالِبٍ ، إِنَّ حَالَ قَوْمِكَ مَا قَدْ تَرَى ، وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، وَقَدْ جِئْنَا لِنَحْمِلَ عَنْكَ بَعْضَ عِيَالِكَ . فَقَالَ أَبُو طَالِبٍ : دَعَا لِي عَقِيلًا وَافْعَلَا مَا أَحْبَبْتُمَا . فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيًّا ، وَأَخَذَ الْعَبَّاسُ جَعْفَرًا ، فَلَمْ يَزَالَا مَعَهُمَا حَتَّى اسْتَغْنَيَا . قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ : وَلَمْ يَزَلْ جَعْفَرٌ مَعَ الْعَبَّاسِ حَتَّى خَرَجَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ مُهَاجِرًا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : قریش کو شدید قحط سالی لاحق ہو گئی ، یہاں تک کہ وہ ہڈی کے ساتھ لگے ہوئے ( چھچھڑے ) بھی کھانے لگے ، اس وقت قریش میں کوئی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے زیادہ خوشحال نہیں تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: ” اے چچا جان ! آپ جانتے ہیں کہ آپ کے بھائی جناب ابوطالب کے بال بچے زیادہ ہیں اور قریش کو جو صورت حال لاحق ہوئی ہے وہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ، آپ ہمارے ساتھ ان کے پاس چلیں ، تاکہ ہم ان کے اہل خانہ میں سے کچھ کا ذمہ اپنے ذمے لے لیں ، تو یہ دونوں جناب ابوطالب کے پاس گئے ، اُن دونوں نے کہا: اے ابوطالب ! آپ کی قوم کو اس صورت حال کا سامنا ہے جو آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں اور ہم یہ جانتے ہیں کہ آپ بھی ان میں سے ایک ہیں ، ہم اس لئے آئے ہیں کہ تاکہ آپ کے اہل خانہ میں سے بعض کا ذمہ خود لے لیں ، تو جناب ابوطالب نے کہا: تم عقیل کو میرے لئے رہنے دو اور باقی جو تم دونوں پسند کرو ، تو کر لو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لے لیا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کو لے لیا ، یہ دونوں مسلسل اسی طرح رہے ، یہاں تک کہ یہ دونوں بے نیاز ہو گئے ۔ “ سلیمان بن داؤد بیان کرتے ہیں : سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کر کے تشریف لے جانے تک مسلسل سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔