کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: رشتے داری کے حقوق کا خیال کرنا ، اور انہیں پامال کرنا
حدیث نمبر: 13439
عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثٌ مُتَعَلِّقَاتٌ بِالْعَرْشِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : الرَّحِمُ تَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي بِكَ فَلَا أُقْطَعُ . وَالْأَمَانَةُ تَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي بِكَ فَلَا أُخَانُ . وَالنِّعْمَةُ تَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي بِكَ فَلَا أُكْفَرُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحَبِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن تین چیزیں عرش کے ساتھ لپٹی ہوئی ہوں گی ، رشتے داری ، جو یہ کہے گی : اے اللہ ! بے شک میں تیری وجہ سے ہوں تو مجھے کاٹا نہ جائے ، امانت ، جو یہ کہے گی : اے اللہ ! میں تیری مدد سے ہوں ، تو میرے حوالے سے خیانت نہ کی جائے ، اور نعمت ، جو یہ کہے گی : اے اللہ ! میں تیری مدد سے ہوں ، تو میرا انکار ( یا ناشکری ) نہ کی جائے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے اور وہ متروک ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : مجھے امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے اور وہ متروک ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : مجھے امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔
حدیث نمبر: 13440
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الرَّحِمَ شَجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ تَقُولُ : يَا رَبِّ إِنِّي قُطِعْتُ يَا رَبِّ إِنِّي أُسِيءَ إِلَيَّ ، يَا رَبِّ إِنِّي ظُلِمْتُ ، يَا رَبِّ يَا رَبِّ . فَيُجِيبُهَا : أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ ؟ " . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” رحم ( یعنی رشتے داری ) رحمان ( کے فضل ) کا ایک حصہ ہے ، وہ ( یعنی رحم ) یہ کہتا ہے : اے میرے پروردگار ! مجھے کاٹ دیا گیا ہے ، اے میرے پروردگار ! میرے ساتھ برا سلوک کیا گیا ، اے میرے پروردگار ! میرے ساتھ ظلم کیا گیا ، اے میرے پروردگار ! اے میرے پروردگار ! ( یعنی یہ ہوا اور وہ ہوا ) تو پروردگار اسے جواب دیتا ہے : ” کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ جو تمہیں ملا کے رکھے گا ، میں اُسے ملا دوں گا اور جو تمہیں کاٹے گا ، میں اُسے کاٹ دوں گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عبدالجبار نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عبدالجبار نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 13441
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَّ الرَّحِمَ شِجْنَةٌ آخِذَةٌ بِحُجْزَةِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ ، يَصِلُ مَنْ وَصَلَهَا وَيَقْطَعُ مَنْ قَطَعَهَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ صَالِحٌ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” بے شک رحم ( یعنی رشتے داری ) رحمان سے لپٹا ہوا ہے ، رحمان اُسے ملاتا ہے جو اس کو ملاتا ہے اور رحمان اُسے کاٹ دیتا ہے جو اس ( رشتے داری ) کو کاٹ دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح مولیٰ توأمہ ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح مولیٰ توأمہ ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13442
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تُوضَعُ الرَّحِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهَا حُجْنَةٌ كَحُجْنَةِ الْمِغْزَلِ تَكَلَّمُ بِلِسَانٍ طَلْقٍ ذَلْقٍ ، فَتَصِلُ مَنْ وَصَلَهَا وَتَقْطَعُ مَنْ قَطَعَهَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ أَبِي ثُمَامَةَ الثَّقَفِيِّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن رحم ( یعنی رشتے داری ) کو یوں رکھا جائے گا کہ اس کا سوت کاتنے کے آلے کی طرح کا خمدار وجود ہو گا ، اور وہ تیز اور فصیح زبان میں بات چیت کرے گا اور وہ اس کو ملائے گا ، جس نے اسے ملا کے رکھا ہو گا اور اسے کاٹ دے گا ، جس نے اُسے کاٹ کے رکھا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوثمامہ ثقفی کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوثمامہ ثقفی کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 13443
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الرَّحِمَ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک رحم ( یعنی رشتے داری ) عرش کے ساتھ معلق ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13444
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مِنْ أَرْبَى الرِّبَا الِاسْتِطَالَةُ فِي عِرْضِ الْمُسْلِمِ بِغَيْرِ حَقٍّ ، وَإِنَّ هَذِهِ الرَّحِمَ شِجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَمَنْ قَطَعَهَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سب سے بڑا سود ( یعنی سب سے بڑا گناہ ) یہ ہے کہ کسی مسلمان کی عزت پر ناحق حملہ کیا جائے ، اور بے شک رحم ( یعنی رشتے داری ) رحمان ( کے فضل ) کا حصہ ہے ، جو شخص اس کو کاٹتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام قرار دے دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نوفل بن مساحق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نوفل بن مساحق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 13445
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : الرَّحِمُ شِجْنَةٌ مِنِّي ، فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ وَمَنْ قَطَعَهَا قَطَعْتُهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ : " قَالَ اللَّهُ " . وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَقَالَ الْعِجْلِيُّ : لَا بَأْسَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : رحم میرے ( فضل کا ) ایک حصہ ہے ، جو شخص اسے ملائے گا میں اسے ملاؤں گا اور جو شخص اسے کاٹے گا میں اُسے کاٹ دوں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، عجلی کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، عجلی کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 13446
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الرَّحِمُ شِجْنَةٌ آخِذَةٌ بِحُجْزَةِ الرَّحْمَنِ ، تُنَاشِدُهُ حَقَّهَا فَيَقُولُ : أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ ؟ مَنْ وَصَلَكِ فَقَدْ وَصَلَنِي وَمَنْ قَطَعَكِ فَقَدْ قَطَعَنِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رحم ایک شعبہ ہے ، جو رحمان کو تھامے ہوئے ہو گا ، اور اپنے حق کے بارے میں اس کی بارگاہ میں مناجات کرے گا تو پروردگار فرمائے گا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ جو تمہیں ملائے گا ، میں اُسے ملاؤں گا اور جو تمہیں کاٹے گا ، میں اُسے کاٹ دوں گا ، اور جو تمہیں ملائے گا ، وہ مجھ سے مل جائے گا اور جو تمہیں کاٹے گا ، مجھ سے لاتعلق ہو جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13447
وَعَنْ جَرِيرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ فِي أُمِّ الْكِتَابِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ : إِنَّنِي أَنَا الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ ، خَلَقْتُ الرَّحِمَ وَشَقَقْتُ لَهَا اسْمًا مِنْ أَسْمَائِي ، فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ ، وَمَنْ قَطَعَهَا قَطَعْتُهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو مُطِيعٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں ، یہ بات آسمان اور زمین کی تخلیق سے پہلے لکھ دی تھی کہ بے شک میں رحمان ہوں ، رحیم ہوں اور میں نے رحم کو پیدا کیا ہے اور میں نے اس کے لئے ایسا نام رکھا ہے جو میرے اسماء سے متعلق ہے ، تو جو شخص اُسے ملائے گا تو میں اسے ملاؤں گا اور جو شخص اسے کاٹ دے گا ، میں اُسے کاٹ دوں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبداللہ ابومطیع ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبداللہ ابومطیع ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13448
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الرَّحِمَ حُجْنَةٌ مُتَمَسِّكَةٌ بِالْعَرْشِ تَكَلَّمُ بِلِسَانٍ ذَلْقٍ : اللَّهُمَّ صِلْ مَنْ وَصَلَنِي ، وَاقْطَعْ مَنْ قَطَعَنِي . فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : أَنَا الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ ، [وَإِنِّي] شَقَقْتُ لِلرَّحِمِ مِنَ اسْمِي ، فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ ، وَمَنْ بَتَكَهَا بَتَكْتُهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک رحم ایک شعبہ ہے ، جس نے عرش کو تھاما ہوا ہے ، وہ فصیح زبان میں بات چیت کرے گا اور یہ کہے گا : اے اللہ ! تو اس کو ملا ، جس نے مجھے ملایا اور تو اس کو کاٹ دے ، جس نے مجھے کاٹا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں رحمان و رحیم ہوں اور میں نے رحم ( یعنی رشتے داری ) کے لئے اپنے اسم سے متعلق نام تجویز کیا ہے ، تو جو شخص اس کو ملائے گا تو میں اسے ملاؤں گا اور جو شخص اس کے ٹکڑے کرے گا ، میں اسے کاٹ دوں گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 13449
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تُنَادِي الرَّحِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : إِنَّ مَنْ وَصَلَنِي وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَنِي قَطَعَهُ اللَّهُ " . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ غَيْرَ هَذَا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن رحم پکار کر یہ کہے گا : جس نے مجھے ملایا تھا ، اللہ تعالیٰ اسے ملائے گا اور جس نے مجھے کاٹا تھا ، اللہ تعالیٰ اسے کاٹ دے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ان صحابی کے لئے ایک حدیث منقول ہے جسے امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کیا ہے اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 13450
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَعْمَالَ بَنِي آدَمَ تُعْرَضُ كُلَّ خَمِيسٍ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ، فَلَا يُقْبَلُ عَمَلُ قَاطِعِ رَحِمٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ہر جمعرات کو ، شب جمعہ میں ، انسانوں کے اعمال ( اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ) پیش کیے جاتے ہیں ، تو رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے والے شخص کا عمل قبول نہیں کیا جاتا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13451
وَعَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ : كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ جَالِسًا بَعْدَ الصُّبْحِ فِي حَلْقَةٍ ، قَالَ : " أُنْشِدُ اللَّهَ قَاطِعَ رَحِمٍ لَمَا قَامَ عَنَّا ; فَإِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَدْعُوَ رَبَّنَا ، وَإِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ مُرْتَجَةٌ دُونَ قَاطِعِ رَحِمٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْأَعْمَشَ لَمْ يُدْرِكِ زَمَنَ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
اعمش بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کے بعد حلقے میں بیٹھ جاتے تھے اور یہ فرماتے تھے : ” رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے والے شخص کو میں اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ وہ ہمارے پاس سے اُٹھ جائے کیونکہ اب ہم اپنے پروردگار سے دعا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور آسمان کے دروازے رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے والے شخص کے لئے بند رہتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اعمش نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اعمش نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 13452
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَنْزِلُ عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ قَاطِعُ رَحِمٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو إِدَامٍ الْمُحَارِبِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک فرشتے ایسی قوم پر نازل نہیں ہوتے ہیں ، جن کے درمیان رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے والا کوئی شخص موجود ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوادام محاربی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوادام محاربی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 13453
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَثَّ عَلَى صِلَةِ الرَّحِمِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي الْقِيَامِ عَلَى الْبَنَاتِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے صلہ رحمی کے بارے میں ترغیب دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ، یہ مکمل روایت بیٹیوں کے لئے کھڑے ہونے کے باب میں آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ، یہ مکمل روایت بیٹیوں کے لئے کھڑے ہونے کے باب میں آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 13454
وَعَنْ رَجُلٍ مَنْ خَثْعَمَ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقُلْتُ : أَنْتَ الَّذِي تَزْعُمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِيمَانٌ بِاللَّهِ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : " ثُمَّ صِلَةُ الرَّحِمِ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : " ثُمَّ الْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَبْغَضُ إِلَى اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : " ثُمَّ قَطِيعَةُ الرَّحِمِ "قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : ثُمَّ الْأَمْرُ بِالْمُنْكَرِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمَعْرُوفِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ نَافِعِ بْنِ خَالِدٍ الطَّاحِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اپنے اصحاب کے درمیان موجود تھے ، میں نے عرض کی : آپ ہی وہ ہیں ؟ جو یہ کہتے ہیں : کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل سب سے زیادہ پسندیدہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : پھر کون سا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر صلہ رحمی کرنا ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا : پھر نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : کسی کو اللہ کا شریک قرار دینا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا : رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر کون سا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : برائی کے بارے میں حکم دینا اور نیکی سے منع کرنا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نافع بن خالد طاحی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نافع بن خالد طاحی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 13455
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعَهُ يَقُولُ : " إِنَّ الصَّدَقَةَ وَصِلَةَ الرَّحِمِ يَزِيدُ اللَّهُ بِهِمَا فِي الْعُمْرِ ، وَيَدْفَعُ بِهِمَا مِيتَةَ السُّوءِ ، وَيَدْفَعُ اللَّهُ بِهِمَا الْمَكْرُوهَ وَالْمَحْذُورَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ صَالِحٌ الْمُرِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک صدقہ کرنا اور صلہ رحمی کرنا ، ان دونوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ عمر میں اضافہ کرتا ہے اور ان دونوں کے ذریعے بری موت کو دور کر دیتا ہے ، اور ان دونوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ ناپسندیدہ چیز اور تکلیف دہ چیز کو پرے کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح مری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح مری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13456
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ ، مِنْ قَطِيعَةِ الرَّحِمِ وَالْخِيَانَةِ وَالْكَذِبِ . وَإِنَّ أَعْجَلَ الْبِرِّ ثَوَابًا لَصِلَةُ الرَّحِمِ ، حَتَّى إِنَّ أَهْلَ الْبَيْتِ لَيَكُونُوا فَقُرَاءَ فَتَنْمُو أَمْوَالُهُمْ وَيَكْثُرُ عَدَدُهُمْ إِذَا تَوَاصَلُوا " . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الْأَنْطَاكِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی بھی گناہ رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے ، خیانت کرنے اور جھوٹ بولنے کے مقابلے میں ، اس بات کا زیادہ لائق نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے مرتکب شخص کو ( دنیا میں ) جلدی سزا دیدے اور اس کے ہمراہ آخرت میں اس کے لئے عذاب تیار رکھے ، اور جس نیکی کا سب سے زیادہ جلدی اجر و ثواب ملتا ہے ، وہ صلہ رحمی ہے ، یہاں تک کہ کسی گھرانے کے لوگ غریب ہوتے ہیں اور پھر اُن کے اموال زیادہ ہو جاتے ہیں اور ان کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے ، جبکہ وہ رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن موسیٰ ابوعثمان انطاکی کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن موسیٰ ابوعثمان انطاکی کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13457
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ لَيُعَمِّرُ بِالْقَوْمِ الدِّيَارَ ، وَيُثْمِرُ لَهُمُ الْأَمْوَالَ ، وَمَا نَظَرَ إِلَيْهِمْ مُنْذُ خَلَقَهُمْ بُغْضًا لَهُمْ " . قِيلَ : وَكَيْفَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بِصِلَتِهِمْ أَرْحَامَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کے علاقے کو آباد کرتا ہے اور انہیں اموال عطا کرتا ہے ، اور اس نے جب سے انہیں پیدا کیا ہے کبھی ان کی طرف غصے نہیں دیکھا ہو گا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیونکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ رشتے کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 13458
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ تَوَاصَلُوا إِلَّا أَجْرَى اللَّهُ عَلَيْهِمُ الرِّزْقَ وَكَانُوا فِي كَنَفِ اللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بھی کسی گھرانے کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ ان کا رزق ان کے لئے جاری کرتا ہے اور وہ لوگ اللہ کی پناہ میں ہوتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ولید وصافی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ولید وصافی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13459
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بُلُّوا أَرْحَامَكُمْ وَلَوْ بِالسَّلَامِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْبَرَاءُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْغَنَوِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھو ! خواہ سلام کے ذریعے ہی ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی براء بن عبداللہ بن یزید غنوی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی براء بن عبداللہ بن یزید غنوی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13460
وَعَنْ [أَبِي] الطُّفَيْلِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صِلُوا أَرْحَامَكُمْ بِالسَّلَامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سلام کے ذریعے صلہ رحمی کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 13461
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو الْأَسْبَاطِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ اپنے انساب کا علم حاصل کرو ، تاکہ اس کے ذریعے تم صلہ رحمی کر سکو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابواسباط ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابواسباط ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13462
وَعَنِ الْعَلَاءِ بْنِ خَارِجَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ ، فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ لِلْأَهْلِ ، مَثْرَاةٌ لِلْمَالِ ، وَمَنْسَأَةٌ لِلْأَجَلِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ [قَدْ] وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علاء بن خارجہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم اپنے انساب کا اتنا علم حاصل کرو کہ اس کے ذریعے تم صلہ رحمی کر سکو ، کیونکہ صلہ رحمی اہل خانہ کے لئے محبت کا ، مال میں اضافے کا اور زندگی لمبی ہونے کا باعث ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گی ہے ۔
حدیث نمبر: 13463
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَعْجَلَ الطَّاعَةِ صِلَةُ الرَّحِمِ ، وَإِنَّ أَهْلَ الْبَيْتِ لَيَكُونُونَ فُجَّارًا ، فَتَنْمُو أَمْوَالُهُمْ ، وَيَكْثُرُ عَدَدُهُمْ إِذَا وَصَلُوا أَرْحَامَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو الدَّهْمَاءِ النَّصْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک سب سے زیادہ جلدی ( ثواب دلانے والی ) اطاعت ، صلہ رحمی ہے ، اور کسی گھرانے کے لوگ گنہگار ہوتے ہیں ، لیکن جب وہ صلہ رحمی کرتے ہیں تو ان کے اموال زیادہ ہو جاتے ہیں ، اور ان کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابودھماء نصری ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابودھماء نصری ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13464
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ سَهْلٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " صِلَةُ الْقَرَابَةِ مَثْرَاةٌ لِلْمَالِ ، مَحَبَّةٌ فِي الْأَهْلِ ، مَنْسَأَةٌ فِي الْأَجَلِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن سہیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، مال میں اضافے کا ، اہل خانہ میں محبت کا ، اور زندگی طویل ہونے کا باعث ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 13465
وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُمَدَّ لَهُ فِي عُمْرِهِ ، وَيُوَسَّعَ عَلَيْهِ فِي رِزْقِهِ ، وَيُدْفَعَ عَنْهُ مِيتَةُ السُّوءِ ، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ اُس کی عمر زیادہ ہو اس کے رزق میں کشادگی ہو اور اس سے بری موت کو پرے کر دیا جائے ، اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے اور رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے ۔ “
یہ روایت عبدالله بن أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عاصم بن ضمرہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت عبدالله بن أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عاصم بن ضمرہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 13466
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهَا : " إِنَّهُ مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَصِلَةِ الرَّحِمِ وَحُسْنِ الْجِوَارِ [وَحُسْنِ الْخُلُقِ] يُعَمِّرَانِ الدِّيَارَ ، وَيَزِيدَانِ فِي الْأَعْمَارِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” جو شخص کو نرمی میں سے حصہ دے دیا گیا ، تو اسے دنیا و آخرت کی بھلائی میں سے اس کا حصہ دے دیا گیا ، رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھنا ، اچھا پڑوسی ہونا اور اچھے اخلاق ہونا ، بستیوں کو آباد کرتے ہیں اور عمر میں اضافہ کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف یہ ہے کہ عبدالرحمن بن قاسم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف یہ ہے کہ عبدالرحمن بن قاسم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 13467
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " فِي التَّوْرَاةِ مَكْتُوبٌ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَادَ فِي عُمْرِهِ وَيُزَادَ فِي رِزْقِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَجَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تورات میں یہ تحریر ہے کہ جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ اس کی عمر میں اضافہ ہو ، اس کے رزق میں اضافہ ہو ، اسے صلہ رحمی کرنی چاہیے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ، جسے شعبہ اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ، جسے شعبہ اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13468
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : ذَكَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَرْحَامَ ، فَقُلْنَا : مَنْ وَصَلَ رَحِمَهُ أُنْسِئَ فِي أَجَلِهِ . قَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ بِزِيَادَةٍ فِي عُمْرِهِ قَالَ اللَّهُ : ( فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ ) وَلَكِنَّهُ الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الذُّرِّيَّةُ الصَّالِحَةُ فَيَدْعُونَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ ، فَيَبْلُغُهُ ذَلِكَ ، فَذَاكَ الَّذِي يُنْسَأُ فِي أَجَلِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَلَيْسَ فِي إِسْنَادِهِ مَتْرُوكٌ ، وَلَكِنَّهُمْ ضُعِّفُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رشتے داری کا ذکر کیا ، ہم نے عرض کی : جو شخص صلہ رحمی کرتا ہے ، کیا اس کی عمر زیادہ ہو جاتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عمر میں اضافہ نہیں ہوتا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب اُن کا آخری وقت آ جاتا ہے ، تو نہ وہ ایک گھڑی مؤخر ہوتا ہے اور نہ پہلے ہوتا ہے “ لیکن یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہو گا کہ ایسی نیک اولاد ہوتی ہے جو اس کے بعد بھی اس کے لئے دعا کرتی رہتی ہے اور اس کا ثواب اسے ملتا رہتا ہے ، تو یہ اس طرح ہے جیسے اُس کی عمر میں اضافہ ہو گیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں کوئی متروک راوی نہیں ہے ، لیکن ان لوگوں کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں کوئی متروک راوی نہیں ہے ، لیکن ان لوگوں کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 13469
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَصَابَتْ قُرَيْشًا أَزْمَةٌ شَدِيدَةٌ حَتَّى أَكَلُوا الرِّمَّةَ ، وَلَمْ يَكُنْ مِنْ قُرَيْشٍ أَحَدٌ أَيْسَرَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْعَبَّاسِ : " يَا عَمِّ ، إِنَّ أَخَاكَ أَبَا طَالِبٍ قَدْ عَلِمْتَ كَثْرَةَ عِيَالِهِ ، وَقَدْ أَصَابَ قُرَيْشًا مَا تَرَى ، فَاذْهَبْ بِنَا إِلَيْهِ حَتَّى نَحْمِلَ عَنْهُ بَعْضَ عِيَالِهِ " . فَانْطَلَقَا إِلَيْهِ فَقَالَا : يَا أَبَا طَالِبٍ ، إِنَّ حَالَ قَوْمِكَ مَا قَدْ تَرَى ، وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، وَقَدْ جِئْنَا لِنَحْمِلَ عَنْكَ بَعْضَ عِيَالِكَ . فَقَالَ أَبُو طَالِبٍ : دَعَا لِي عَقِيلًا وَافْعَلَا مَا أَحْبَبْتُمَا . فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيًّا ، وَأَخَذَ الْعَبَّاسُ جَعْفَرًا ، فَلَمْ يَزَالَا مَعَهُمَا حَتَّى اسْتَغْنَيَا . قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ : وَلَمْ يَزَلْ جَعْفَرٌ مَعَ الْعَبَّاسِ حَتَّى خَرَجَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ مُهَاجِرًا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : قریش کو شدید قحط سالی لاحق ہو گئی ، یہاں تک کہ وہ ہڈی کے ساتھ لگے ہوئے ( چھچھڑے ) بھی کھانے لگے ، اس وقت قریش میں کوئی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے زیادہ خوشحال نہیں تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: ” اے چچا جان ! آپ جانتے ہیں کہ آپ کے بھائی جناب ابوطالب کے بال بچے زیادہ ہیں اور قریش کو جو صورت حال لاحق ہوئی ہے وہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ، آپ ہمارے ساتھ ان کے پاس چلیں ، تاکہ ہم ان کے اہل خانہ میں سے کچھ کا ذمہ اپنے ذمے لے لیں ، تو یہ دونوں جناب ابوطالب کے پاس گئے ، اُن دونوں نے کہا: اے ابوطالب ! آپ کی قوم کو اس صورت حال کا سامنا ہے جو آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں اور ہم یہ جانتے ہیں کہ آپ بھی ان میں سے ایک ہیں ، ہم اس لئے آئے ہیں کہ تاکہ آپ کے اہل خانہ میں سے بعض کا ذمہ خود لے لیں ، تو جناب ابوطالب نے کہا: تم عقیل کو میرے لئے رہنے دو اور باقی جو تم دونوں پسند کرو ، تو کر لو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لے لیا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کو لے لیا ، یہ دونوں مسلسل اسی طرح رہے ، یہاں تک کہ یہ دونوں بے نیاز ہو گئے ۔ “ سلیمان بن داؤد بیان کرتے ہیں : سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کر کے تشریف لے جانے تک مسلسل سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 13470
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ جُوَيْرِيَةَ قَالَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَعْتِقَ هَذَا الْغُلَامَ . قَالَ : " أَعْطِهِ خَالَكِ الَّذِي فِي الْأَعْرَابِ يَرْعَى عَلَيْهِ ; فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِأَجْرِكِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : میں یہ چاہتی ہوں کہ میں یہ غلام آزاد کر دوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم یہ اپنے اُس ماموں کو دیدو جو دیہات میں رہتا ہے ، یہ اُس کے کام کاج کر دے گا ، یہ تمہارے لئے زیادہ اجر کا باعث ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔