مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَقَطْعِهَا باب: رشتے داری کے حقوق کا خیال کرنا ، اور انہیں پامال کرنا
حدیث نمبر: 13470
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ جُوَيْرِيَةَ قَالَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَعْتِقَ هَذَا الْغُلَامَ . قَالَ : " أَعْطِهِ خَالَكِ الَّذِي فِي الْأَعْرَابِ يَرْعَى عَلَيْهِ ; فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِأَجْرِكِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : میں یہ چاہتی ہوں کہ میں یہ غلام آزاد کر دوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم یہ اپنے اُس ماموں کو دیدو جو دیہات میں رہتا ہے ، یہ اُس کے کام کاج کر دے گا ، یہ تمہارے لئے زیادہ اجر کا باعث ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔