مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْوَلَدِ يَدْعُوهُ وَالِدُهُ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ باب: اس بچے کا بیان ، جو نماز ادا کر رہا ہو ، اور پھر اُس دوران اس کا باپ ( یا اُس کی ماں ) اسے بلائیں
حدیث نمبر: 13421
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ تَاجِرًا ، وَكَانَ يَنْقُصُ مَرَّةً وَيَزِيدُ أُخْرَى فَقَالَ : مَا فِي هَذِهِ التِّجَارَةِ خَيْرٌ لَأَلْتَمِسُ تِجَارَةً هِيَ خَيْرٌ مِنْ هَذِهِ . فَبَنَى صَوْمَعَةً وَتَرَهَّبَ فِيهَا " . قَالَ : فَذَكَرَ نَحْوَهُ . أَيْ نَحْوَ حَدِيثِ الصَّحِيحِ فِي قِصَّةِ جُرَيْجٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بنی اسرائیل میں ایک تاجر شخص تھا ، کبھی اس کے مال میں کمی ہو جاتی تھی کبھی اضافہ ہو جاتا تھا ، اس نے کہا: اس تجارت میں بھلائی نہیں ہے ، مجھے ایسی تجارت تلاش کرنی چاہیے جو اس سے زیادہ بہتر ہو ، تو اس نے ایک عبادت خانہ بنایا اور اس میں رہبانیت کی زندگی اختیار کرتے ہوئے رہنے لگا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے یعنی وہ حدیث جو اس حدیث کی مانند ہے جو جریج کے واقعہ کے بارے میں ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔