حدیث نمبر: 13420
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : جُرَيْجٌ ، كَانَ يَتَعَبَّدُ فِي صَوْمَعَتِهِ ، فَأَتَتْهُ أُمُّهُ ذَاتَ يَوْمٍ فَنَادَتْهُ فَقَالَتْ : أَيْ جُرَيْجُ [أَيْ بُنَيَّ ] ، أَشْرِفْ عَلَيَّ أُكَلِّمْكَ ، أَنَا أُمُّكَ ، أَشْرِفْ [عَلَيَّ]. فَقَالَ : أَيْ رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي ؟ فَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ ، ثُمَّ عَادَتْ فَنَادَتْهُ [مِرَارًا] فَقَالَتْ : أَيْ جُرَيْجُ ، أَيْ بُنَيَّ ، أَشْرِفْ عَلَيَّ . فَقَالَ : أَيْ رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي ؟ فَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ فَقَالَتِ : اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتَّى تُرِيَهُ الْمُومِسَةَ . وَكَانَتْ رَاعِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِهَا ، ثُمَّ تَأْوِي إِلَى ظِلِّ صَوْمَعَتِهِ ، فَأَصَابَتْ فَاحِشَةً ، فَحَمَلَتْ فَأُخِذَتْ ، وَكَانَ مَنْ زَنَى مِنْهُمْ قُتِلَ ، قَالُوا : مِمَّنْ ؟ قَالَتْ : مِنْ جُرَيْجٍ صَاحِبِ الصَّوْمَعَةِ . فَجَاؤُوا بِالْفُئُوسِ وَالْمُرُورِ ، فَقَالُوا : أَيْ جُرَيْجُ ، أَيْ مُرَاءٍ [ثُمَّ قَالُوا] ، انْزِلْ . فَأَبَى ، يُقْبِلُ عَلَى صَلَاتِهِ يُصَلِّي . فَأَخَذُوا فِي هَدْمِ صَوْمَعَتِهِ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ نَزَلَ ، فَجَعَلُوا فِي عُنُقِهِ وَعُنُقِهَا حَبْلًا ، فَجَعَلُوا يَطُوفُونَ بِهِمَا فِي النَّاسِ ، فَجَعَلَ إِصْبَعَهُ فِي بَطْنِهَا فَقَالَ : أَيْ فُلَانُ ، مَنْ أَبُوكَ ؟ قَالَ : أَبِي فُلَانٌ رَاعِي الضَّأْنِ . فَقَبَّلُوهُ وَقَالُوا : إِنْ شِئْتَ بَنَيْنَا صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ . قَالَ : أَعِيدُوهَا مِنْ طِينٍ كَمَا كَانَتْ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بنی اسرئیل میں ایک شخص تھا ، جس کا نام جریج تھا ، وہ اپنے عبادت خانے میں عبادت کیا کرتا تھا ، ایک دن اس کی ماں اس کے پاس آئی ، اس کی ماں نے بلند آواز میں اسے پکارا اور کہا: اے جریج ! اے میرے بیٹے ! تم میری طرف جھانک کر دیکھو ، تاکہ میں تمہارے ساتھ بات چیت کروں ، میں تمہاری ماں ہوں ، تم میری طرف جھانک کر دیکھو ! جریج نے سوچا : اے میرے پروردگار ! ایک طرف میری ماں ہے ، اور ایک طرف میری نماز ہے ، پھر وہ اپنی نماز کی طرف متوجہ رہا ، اس کی ماں نے پھر اسے کئی مرتبہ پکارا ، وہ عورت یہی کہتی رہی : اے جریج ! اے میرے بیٹے ! میری طرف جھانک کر دیکھو ، تو وہ یہی سوچتا : اے میرے پروردگار ! ایک طرف میری ماں ہے ، اور ایک طرف میری نماز ہے ، تو وہ اپنی نماز کی طرف متوجہ رہا ، تو اس کی ماں نے کہا: اے اللہ ! تو اسے اُس وقت تک موت نہ دینا ، جب تک فاحشہ عورت کی شکل اسے نہیں دکھا دیتا ، وہاں ایک بکریاں چرانے والی عورت تھی ، جو اپنے مالکان کی بکریاں چرایا کرتی تھی اور پھر اس کے عبادت خانے کے سائے میں آ جایا کرتی تھی ، اس نے گناہ کا ارتکاب کیا ، وہ حاملہ ہو گی ، پھر وہ پکڑی گی ، جس شخص نے زنا کیا تھا وہ مارا گیا ، لوگوں نے دریافت کیا : یہ بچہ کس کا ہے ؟ اس عورت نے جواب دیا : اس عبادت خانے والے شخص جریج کا ہے ، تو لوگ اپنے پھاؤڑے وغیرہ لے آئے اور بولے : اے جریج ! اے دھوکے باز شخص ! پھر ان لوگوں نے کہا: تم نیچے آؤ ! لیکن جریج نیچے نہیں آیا ، وہ اپنی نماز کی طرف متوجہ رہا اور نماز پڑھتا رہا ، لوگوں نے اس کے عبادت خانے کو منہدم کرنا شروع کر دیا ، جب اس نے یہ بات دیکھی تو وہ نیچے آیا ، لوگوں نے اس کی گردن میں ، اور اس عورت کی گردن میں رسی ڈال دی اور ان دونوں کو لوگوں میں چکر لگوایا ، تو جریج نے اپنی انگلیاں اس بچے کے پیٹ پر رکھیں اور بولا: اے فلاں ! تمہارا باپ کون ہے ؟ اس نے جواب دیا : میرا باپ فلاں شخص ہے ، جو بھیڑوں کا چرواہا ہے ، تو لوگ جریج کو چومنے لگے اور بولے : اگر تم چاہو ، تو ہم تمہارا عبادت خانہ سونے اور چاندی کا بنا دیتے ہیں ، تو اس نے کہا: اسے دوبارہ مٹی کا بنا دو ! جس طرح یہ پہلے تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں اس سیاق کے بغیر منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13420
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (385/2)»