حدیث نمبر: 13415
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ انْطَلَقُوا إِلَى حَاجَةٍ لَهُمْ ، فَأَوَوْا إِلَى جَبَلٍ ، فَسَقَطَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : يَا هَؤُلَاءِ - يَعْنِي بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ - تَفَكَّرُوا فِي أَحْسَنِ أَعْمَالِكُمْ فَادْعُوا اللَّهَ بِهَا ، لَعَلَّ اللَّهَ يُفَرِّجُ عَنْكُمْ . فَقَالَ أَحَدُهُمُ : اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَتْ لِي مَرَّةً صَدِيقَةٌ أُطِيلُ الِاخْتِلَافَ إِلَيْهَا ، فَتَرَكْتُهَا مِنْ مَخَافَتِكَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ ذَلِكَ فَفَرِّجْ عَنَّا . قَالَ : فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ عَنْهُمْ حَتَّى طَمِعُوا فِي الْخُرُوجِ ، فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا الْخُرُوجَ . وَقَالَ الثَّانِي : اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي أُجَرَاءُ يَعْمَلُونَ عَمَلًا - أَحْسَبُهُ قَالَ : - فَأَخَذَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ أَجْرَهُ وَتَرَكَ وَاحِدٌ مِنْهُمْ أَجْرَهُ ، وَزَعَمَ أَنَّ أَجْرَهُ أَكْثَرُ مِنْ أُجُورِ أَصْحَابِهِ ، فَعَزَلْتُ أَجْرَهُ مِنْ مَالِي ، حَتَّى كَانَ خَيْرًا وَمَاشِيَةً فَأَتَانِي بَعْدَمَا افْتَقَرَ وَكَبِرَ فَقَالَ : أُذَكِّرُكَ اللَّهَ فِي أَجْرِي ، فَأَنَا أَحْوَجُ مَا كُنْتُ إِلَيْهِ ، فَانْطَلَقْتُ فَوْقَ بَيْتٍ ، فَأَرَيْتُهُ مَا أَنْمَى اللَّهُ لَهُ مِنْ أَجْرِهِ فِي الْمَالِ وَالْمَاشِيَةِ فِي الْغَائِطِ - يَعْنِي فِي الصَّحَارَى - فَقُلْتُ : هَذَا لَكَ . فَقَالَ : لِمَ تَسْخَرُ بِي أَصْلَحَكَ اللَّهُ ؟ كُنْتُ أُرِيدُكَ عَلَى أَقَلِّ مِنْ هَذَا فَتَأْبَى عَلَيَّ . فَدَفَعْتُ إِلَيْهِ يَا رَبِّ مِنْ مَخَافَتِكَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ ذَلِكَ فَفَرِّجْ عَنَّا . فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ عَنْهُمْ ، وَلَمْ يَسْتَطِيعُوا أَنْ يَخْرُجُوا . وَقَالَ الثَّالِثُ : يَا رَبِّ ، كَانَ لِي أَبَوَانِ كَبِيرَانِ فَقِيرَانِ ، لَيْسَ لَهُمَا خَادِمٌ وَلَا رَاعٍ وَلَا وَالٍ غَيْرِي ، أَرْعَى لَهُمَا بِالنَّهَارِ ، وَآوِي إِلَيْهِمَا بِاللَّيْلِ ، وَإِنَّ الْكَلَأَ تَبَاعَدَ فَتَبَاعَدْتُ بِالْمَاشِيَةِ ، فَأَتَيْتُهُمَا - يَعْنِي لَيْلَةً - بَعْدَمَا ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ وَنَامَا ، فَحَلَبْتُ يَعْنِي فِي الْإِنَاءِ ، ثُمَّ جَلَسْتُ عِنْدَ رُءُوسِهِمَا - يَعْنِي بِالْإِنَاءِ - كَرَاهِيَةَ أَنْ أُوقِظَهُمَا حَتَّى يَسْتَيْقِظَا مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِهِمَا ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ مِنْ مَخَافَتِكَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ فَفَرِّجْ عَنَّا . فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ وَخَرَجُوا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی علی روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین افراد اپنے کسی کام کے سلسلے میں جا رہے تھے ، وہ ایک غار میں آئے اور ان پر ایک پتھر آ کر گرا ، تو ان لوگوں نے کہا: ( یعنی ایک دوسرے سے یہ کہا: ) اے لوگو تم اپنے سب سے عمدہ عمل کے بارے میں غور و فکر کرو اور اس عمل کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ، تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں کشادگی نصیب کرے ، تو ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ میری ایک سہیلی تھی ، جس کے پاس میں بکثرت آتا جاتا رہا ، لیکن پھر میں نے تیرے خوف کی وجہ سے تیری رضامندی کے حصول کے لئے اسے چھوڑ دیا ، اگر تو یہ بات جانتا ہے تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ، تو ان لوگوں سے پتھر ذرا ہٹ گیا ، یہاں تک کہ انہیں یہ امید پیدا ہوئی کہ وہ نکل سکیں گے ، لیکن ابھی وہ وہاں سے نکل نہیں سکتے تھے ، دوسرے نے کہا: اے اللہ ! میرے کچھ مزدور تھے ، جو کام کرتے تھے ، ان میں سے ہر ایک شخص نے اپنا معاوضہ وصول کر لیا ، ان میں سے ایک شخص نے اپنا معاوضہ ترک کر دیا ، اس کا یہ گمان تھا کہ اس کا معاوضہ اس کے ساتھیوں کے معاوضے سے زیادہ بنتا ہے ، تو میں نے اس کے معاوضے کو اپنے مال سے الگ کیا ، یہاں تک کہ وہ بہت سی بھلائی اور جانوروں میں تبدیل ہو گیا ، جب وہ شخص بوڑھا اور عمر رسیدہ ہو گیا تو اس کے بعد وہ میرے پاس آیا اور اس نے کہا: میں اپنے معاوضے کے بارے میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں ، اب مجھے اس کی شدید ضرورت ہے ، تو میں اپنے گھر کے اوپر گیا ، میں نے اسے وہ چیزیں دکھائیں ، جو اللہ تعالیٰ نے اس کے معاوضے کے ذریعے بڑھائی تھیں ، جو مال مویشیوں کی شکل میں تھیں اور کھلی جگہ پر تھیں ، میں نے کہا: یہ سب چیزیں تمہاری ہوئیں ، اس نے کہا: تم میرا مذاق کیوں اڑا رہے ہو ؟ اللہ تعالیٰ تمہیں ٹھیک رکھے ، میں تو تم سے اس سے بہت کم چیز حاصل کرنا چاہتا ہوں اور تم وہ مجھے نہیں دے رہے ہو ، تو اے پروردگار ! میں نے تیرے خوف کی وجہ سے اور تیری رضا کے حصول کے لئے وہ چیزیں اس کے حوالے کر دیں ، اگر تو یہ بات جانتا ہے تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ! تو پتھر ان لوگوں سے کچھ ہٹ گیا ، لیکن وہ ابھی بھی باہر نہیں جا سکتے تھے ، تیسرے شخص نے کہا: میرے بوڑھے عمر رسیدہ غریب ماں باپ تھے ، ان کا کوئی خادم یا دیکھ بھال کرنے والا نگران ، میرے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ، میں دن کے وقت ان کے لئے بکریاں چراتا تھا اور رات کے وقت ان کے پاس آ جایا کرتا تھا ، گھاس پھوس دور ہوتی تھی ، تو مجھے جانوروں کو لے کر دور جانا پڑتا تھا ، ایک رات میں ان کے پاس رات کا ایک حصہ گزر جانے کے بعد آیا ، تو وہ دونوں سو چکے تھے ، میں نے برتن میں دودھ دوہ لیا ، پھر میں ان کے سرہانے آ کے بیٹھ گیا ، مجھے یہ بات ناپسند تھی کہ میں انہیں بیدار کروں ، میں یہ چاہتا تھا وہ دونوں ازخود بیدار ہوں ، اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ، تو وہ پتھر ہٹ گیا اور وہ لوگ باہر نکل آئے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13415
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1867)»