حدیث نمبر: 13414
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذَهَبَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ رَادَّةً لِأَهْلِهِمْ ، قَالَ : فَأَخَذَهُمْ مَطَرٌ ، فَلَجَئُوا إِلَى غَارٍ قَالَ : فَوَقَعَ عَلَيْهِمْ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - مِنْ فَمِ الْغَارِ - حَجَرٌ فَسَدَّ عَلَيْهِمْ فَمَ الْغَارِ ، وَوَقَعَ بِتَجَافٍ عَنْهُمْ ، قَالَ : فَقَالَ النَّفَرُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : عَفَا الْأَثَرُ وَوَقَعَ الْحَجَرُ ، وَلَا يَعْلَمُ بِمَكَانِكُمْ إِلَّا اللَّهُ تَعَالَى ، فَتَعَالَوْا فَلْيَدْعُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ بِأَوْثَقِ عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، عَسَى أَنْ يُخْرِجَكُمْ مِنْ مَكَانِكُمْ . قَالَ أَحَدُهُمُ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ بَرًّا بِوَالِدَيَّ ، وَإِنِّي أَرَحْتُ غَنَمِي لَيْلَةً ، وَكُنْتُ أَحْلِبُ لِأَبَوَيَّ فَآتِيهُمَا [وَهُمَا] مُضْطَجِعَانِ عَلَى فِرَاشِهِمَا ، حَتَّى أَسْقِيَهُمَا بِيَدِي ، وَإِنِّي أَتَيْتُهُمَا لَيْلَةً مِنْ تِلْكَ اللَّيَالِي ، وَجِئْتُ بِشَرَابِهِمَا فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا ، وَإِنِّي جَعَلْتُ أَرْغَبُ لَهُمَا فِي نَوْمِهِمَا ، وَأَكْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا ، وَأَكْرَهُ أَنْ أَرْجِعَ بِالشَّرَابِ فَيَسْتَيْقِظَانِ فَلَا يَجِدَانِي عِنْدَهُمَا ، فَقُمْتُ مَكَانِي قَائِمًا عَلَى رُءُوسِهِمَا كَذَلِكَ ، حَتَّى أَصْبَحْتُ ، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ ، فَافْرِجْ عَنَّا . قَالَ : فَزَالَ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - ثُلُثُ الْحَجَرِ انْفِرَاجًا . قَالُوا لِلْآخَرِ : إِيهًا - أَيْ قُلْ - قَالَ : فَقَالَ الثَّانِي : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي أَحْبَبْتُ ابْنَةَ عَمٍّ لِي حُبًّا شَدِيدًا - وَإِنِّي أَحْسَبُهُ قَالَ : - خَطَبْتُهَا إِلَى أَهْلِهَا فَمَنَعُونِيهَا ، حَتَّى جَعَلْتُ لَهَا مَا رَضِيتُ بِهِ بَيْنِي وَبَيْنَهَا ، ثُمَّ دَعَوْتُ بِهَا فَخَلَوْتُ بِهَا ، فَقَعَدْتُ مِنْهَا مَقْعَدَ الرَّجُلِ مِنَ الْمَرْأَةِ فَقَالَتْ : لَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَفُضَّ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ . فَانْقَبَضْتُ إِلَى نَفْسِي ، وَوَفَّرْتُ حَقَّهَا عَلَيْهَا وَنَفْسَهَا ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرِجْ عَنَّا . قَالَ : فَزَالَ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - انْفِرَاجًا . وَقَالُوا لِلثَّالِثِ : إِيهًا - أَيْ قُلْ - قَالَ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي عَمَلَ لِي عَامِلٌ عَلَى صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ ، فَانْطَلَقَ الْعَامِلُ وَلَمْ يَأْخُذْ صَاعَهُ ، فَاحْتَبَسَ عَلَيَّ طَوِيلًا مِنَ الدَّهْرِ ، وَإِنِّي عَمَدْتُ إِلَى صَاعِهِ أَحْرُثُهُ ، حَتَّى اجْتَمَعَ مِنْ ذَلِكَ الصَّاعِ بَقَرٌ كَثِيرٌ وَشَاءٌ كَثِيرٌ وَمَالٌ كَثِيرٌ ، وَإِنَّ ذَلِكَ الْعَامِلَ أَتَانِي بَعْدَ زَمَانٍ يَطْلُبُ الصَّاعَ مِنَ الطَّعَامِ ، وَإِنِّي قُلْتُ لَهُ : إِنَّ صَاعَكَ ذَلِكَ مِنَ الطَّعَامِ قَدْ صَارَ مَالًا كَثِيرًا وَشَاءً كَثِيرًا وَبَقَرًا كَثِيرًا ، فَخُذْ هَذَا كُلَّهُ فَإِنَّهُ مِنْ ذَلِكَ الصَّاعِ . قَالَ لِي : أَتَسْخَرُ بِي ؟ قُلْتُ لَهُ : لَا وَاللَّهِ ، وَلَكِنَّهُ الْحَقُّ . فَانْطَلَقَ بِهِ يَسُوقُ الْمَالَ أَجْمَعَ ، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرِجْ عَنَّا . فَانْفَلَقَ الْحَجَرُ فَوَقَعَ ، فَخَرَجُوا يَتَمَاشَوْنَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین افراد اپنے گھر کی طرف واپس جا رہے تھے ، انہیں بارش نے آ لیا ، وہ ایک غار میں چلے گئے ، غار کے منہ پر ایک پتھر آ گیا اور اس نے غار کے منہ کا دروازہ ان کے لئے بند کر دیا ، اور وہ ایسی حالت میں آ کے گرا کہ ان کا راستہ بالکل بند ہو گیا ، تو ان میں سے ایک نے دوسروں سے کہا: اب نشان مٹ گیا ہے ، پتھر آ کے گر گیا ہے اور تمہاری جگہ کے بارے میں صرف اللہ تعالیٰ کو علم ہے ، تو تم لوگ آگے آؤ ! تم میں سے ہر ایک شخص اپنے سب سے زیادہ قابل وثوق عمل کے حوالے سے دعا کرے ، جو اس نے عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کیا ہو ، تو ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اُس جگہ سے نکلوا دے ، تو ان میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میں اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا تھا ، میں رات کے وقت اپنی بکریاں واپس لے کر آتا تھا اور اپنے ماں باپ کے لئے دودھ دوہ کر ان کے پاس آیا تو وہ دونوں اپنے بستر پر لیٹے ہوئے ہوتے تھے ، میں اپنے ہاتھ سے انہیں دودھ پینے کے لئے دیتا تھا ، ایک رات میں اُن کے پاس آیا ، میں ان کا مشروب لے کر آیا تو میں نے ان دونوں کو پایا کہ وہ سو چکے تھے ، میں ان کے لئے یہ بھی چاہتا تھا کہ اُن کی نیند خراب نہ ہو ، تو مجھے انہیں بیدار کرنا اچھا نہیں لگا اور مجھے یہ بھی اچھا نہیں لگا کہ میں مشروب لے کے واپس چلا جاؤں اور پھر وہ بیدار ہو جائیں اور مجھے اپنے پاس نہ پائیں ، تو اپنی جگہ اسی طرح ان کے سرہانے کھڑا رہا ، یہاں تک کہ صبح ہو گئی ، اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے !“ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد یہ کلمات ہیں کہ پتھر کچھ ہٹ گیا ۔ اُن لوگوں نے دوسرے سے کہا: اب تم کچھ کہو ! تو دوسرے شخص نے یہ کہا: اے اللہ ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میں اپنی چچا زاد سے شدید محبت کرتا تھا ، میں نے اس کے گھر والوں کو شادی کا پیغام بھی دیا تھا ، لیکن انہوں نے انکار کر دیا تھا ؟ یہاں تک کہ میں نے اس کے لئے وہ رقم مقرر کی ، جس کے ذریعے وہ میرے اور اپنے درمیان تعلق پر راضی ہو جاتی ، پھر میں نے اسے بلایا اور اس کے ساتھ خلوت میں چلا گیا اور میں اس کے قریب یوں آ گیا ، جس طرح کوئی مرد کسی عورت کے قریب آتا ہے ، تو اس نے کہا: یہ تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ تم ناحق طور پر مہر کو ختم کرو ، تو مجھے اپنے آپ کو سمیٹنا پڑا اور میں نے اس کا معاوضہ اس کے پاس رہنے دیا اور اس کی ذات کو بھی اس کے حوالے کر دیا ، اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے ، اگر میں نے تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ، تو کچھ مزید کشادگی ہو گی ( راوی کو شک ہے ، یا اُس کی مانند کوئی اور کلمہ ہے ) ۔ لوگوں نے تیسرے شخص سے کہا: یعنی اب تم کچھ کہو ! تو تیسرے شخص نے کہا: اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ ایک مزدور اناج کے ایک صاع کے عوض میں میرے لئے کام کرتا تھا ، ایک مرتبہ وہ مزدور چلا گیا ، اس نے اپنا صاع وصول نہیں کیا ، پھر وہ طویل عرصے تک میرے پاس نہیں آیا ، میں نے اُس کے صاع کے ذریعے کھیتی باڑی شروع کی ، یہاں تک کہ اس صاع کے ذریعے بہت سی گائیں بکریاں اور مال اکٹھا ہو گیا ، ایک زمانہ گزرنے کے بعد وہ مزدور میرے پاس آیا اور اس نے اناج کے صاع کو طلب کیا ، میں نے اس سے کہا: تمہارا اناج کا ایک صاع اب بہت سا مال ، بہت سی بھیڑ بکریوں اور بہت سی گائیوں میں تبدیل ہو چکا ہے ، تم ان سب کو لے لو ! یہ اس صاع کے نتیجے میں ہیں ، اس نے مجھ سے کہا: کیا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو ؟ میں نے اس سے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! بلکہ یہ حق ہے ، تو وہ سارے مال کو ہانک کر لے گیا ، اے اللہ ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ، تو وہ پتھر ہٹ کے گر گیا اور وہ لوگ چلتے ہوئے باہر آ گئے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال اور امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13414
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ رِجَالُهُمَا
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1869 و 1866)»